کل کا ضمنی انتخاب پی ٹی آئی کے سیاسی بیانیہ اور سیاست کو دفن کر دے گا؛ مریم اورنگزیب

12

اسلام آباد،16جولائی  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ   پنجاب کے ضمنی انتخاب میں ملک کو بحرانوں سے نکالنے والی جماعت کامیاب ہوگی، حلقوں سے آنے والی اطلاعات حوصلہ افزاء ہیں، پنجاب کا ضمنی انتخاب پی ٹی آئی کے سیاسی بیانیہ اور سیاست کو دفن کر دے گا۔

 ہفتہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف اور صدر شہباز شریف نے مریم نواز کو جو ذمہ داری سونپی تھی، مریم نواز نے اسے مثالی طریقے سے نبھایا، مریم نواز کی شاندار مہم  کے باعث مسلم لیگ (ن) کے جلسوں میں جوش و خروش رہا، حلقوں سے آنے والی اطلاعات حوصلہ افزاء ہیں۔

 عمران خان کی تقریر کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج عمران خان نے اپنی تقریر میں اپنی شکست کو تسلیم کیا ہے، عمران خان جس طرح کی باتیں کر رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ ان کی زبان اور دماغ ان کے قابو میں نہیں، ایسا تب ہوتا ہے کہ جب انسان گھبرایا ہوا، ہارا ہوا، مسترد شدہ اور ناکام ہو۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جانتے ہیں کہ یہ چاروں چیزیں ان میں موجود ہیں، وہ مسترد اور ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام نے عمران خان کی دی ہوئی بے روزگاری، مہنگائی اور معاشی تباہی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے، عمران خان نے چار سالوں کے دوران ملک میں عوام کو تکلیف کے سوا کچھ نہیں دیا، انہوں نے ملک کو سری لنکا بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

 وفاقی وزیر نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں اس جماعت کی فتح ہوگی جس نے ہمیشہ پاکستان کو معاشی بحرانوں سے نکالا اور معاشی استحکام کی طرف لے کر گئی   ، مسلم لیگ (ن)   وہ جماعت ہے جس نے ملک سے اندھیروں کا خاتمہ کیا، معیشت کو درست کیا، خطے میں سی پیک دیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جانتے ہیں کہ انہوں نے اپنے چار سالوں میں بجلی میں ایک میگاواٹ کا اضافہ نہیں کیا، وہ ایک کلو میٹر سڑک تک نہیں بنا سکے، عوام سے ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کے جھوٹے وعدے کئے، انہوں نے اپنے دور میں ایک یونیورسٹی اور ہسپتال تک نہیں بنایا، یہی وجہ ہے کہ وہ آج اپنے کسی بھی خطاب میں کسی ایک کام کا تذکرہ تک نہیں کر سکتے۔

  وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ میرے دور میں میڈیا سب سے زیادہ آزاد تھا، میڈیا پر کوئی پابندی اور سینسر شپ نہیں تھی، رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز کی رپورٹ ہے کہ عمران خان کے دور میں میڈیا پر قدغنیں لگیں، عمران خان کے دور میں میڈیا اداروں پر پابندیاں لگائی گئیں، چینلز کو بند کیا گیا، یہاں رپورٹرز کی زندگیوں کو خطرات تھے، عمران خان صحافیوں کو دھمکاتے تھے کہ اگر ان کے خلاف کوئی خبر شائع کی تو صحافی کو زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز کی رپورٹ عمران خان کا اصل اعمال نامہ ہے، ہیومن رائٹس واچ کی اگست 2019ء کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے دور میں ٹی وی چینلز کے پروگرام بند کئے گئے، کیپیٹل ٹی وی، جیو نیوز اور دیگر چینلز کے پروگراموں کو بند کیا گیا، جو چینل پروگرام بند نہیں کرتا، اس کے رپورٹرز اور عملہ پر اٹیک کئے جاتے۔   انہوں نے کہا کہ سی پی این کی فروری 2021ء کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کے دور میں 10 صحافی قتل ہوئے اور متعدد گرفتار ہوئے، صحافیوں کو سینسر شپ کے ذریعے ڈیتھ تھریٹ دے کر ملک میں چار سال سینسر شپ کی گئی، جو صحافی بات نہیں مانتا تھا اسے جیل میں ڈال دیا جاتا تھا۔  انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دور میں میر شکیل الرحمان کو نیب کی حراست میں رکھ کر باقی چینلز کو پیغام دیا گیا کہ اگر ہم ان کے ساتھ یہ کر سکتے ہیں تو آپ کس باغ کی مولی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حامد میر ان کو پسند نہیں آئے تو انہیں آف ایئر کر دیا گیا، ابصار عالم کو ان کے گھر کے قریب پیٹ میں گولیاں ماری گئیں، مطیع اللہ جان کو اپنی بیٹی کے سکول کے باہر سے اغواء کیا گیا، اسد طور  کے  گھر میں گھس کر بازو توڑے گئے، خواتین صحافیوں پر تابڑ توڑ حملے کئے گئے، سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مہمات چلائی گئیں، غریدہ فاروقی کے بارے میں سوشل میڈیا مہم چلائی گئی، محسن بیگ نے جب ان کی کرپشن پر آواز بلند کی تو ان کی ناک کی ہڈی توڑی گئی، سب سے پہلے طلعت حسین عمران خان کی آمرانہ سوچ کا شکار ہوئے، عاصمہ شیرازی، غریدہ فاروقی اور امبر شمسی جیسی پروفیشنل صحافیوں کے خلاف انہوں نے سوشل میڈیا کمپینز چلائیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ میں صحافیوں کو سلام پیش کرتی ہوں جو عمران خان کے کڑے دور میں ثابت قدم رہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے حکومت میں آتے ہی اپنے سیاسی مخالفین کو سزائے موت کی چکیوں میں پیسا، عمران خان کہتے ہیں کہ وہ آزادی اظہار رائے کے پیرو کار ہیں، انہیں ڈر نہیں لگتا جبکہ حقیقت میں عمران خان اتنے بزدل ہیں کہ انہوں نے نواز شریف اور مریم نواز کی آواز کو ٹی وی سکرین پر بند کیا، شہباز شریف جب کورٹ آتے تھے عمران خان انتظامیہ کو حکم دیتے کہ لائوڈ اسپیکر پر اتنا اونچا بولو کہ شہباز شریف کی آواز کوئی سن نہ سکے، عمران خان کے دور میں پی ایف یو جے نے احتجاج کیا اور خدا کا واسطہ دیا کہ ہماری زبانیں کھولی جائیں، ہمیں بولنے کا حق دیا جائے۔ عمران خان کے دور میں صحافتی تنظیموں کے احتجاج ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ   بشریٰ بی بی نے اپنی فرنٹ مین فرح گوگی کے ذریعے چوری کروائی اور عمران خان اس طرح لیکچر دیتے ہیں کہ وہ بہت پارسا ہیں لیکن وہ جب بھی منہ کھولتے ہیں تو گالی دیتے ہیں، اپنے سیاسی مخالفین کو دھمکاتے ہیں۔ انہوں  نے کہا کہ عمران خان الیکشن کمشنر سے چور دروازے سے ملاقات کی درخواستیں کرتے رہے، جب ون آن ون ملاقات نہیں ہو سکی تو عمران خان نے الیکشن کمیشن پر یلغار کر دی، عمران خان چور دروازے سے ملاقاتوں کے عادی ہیں، آج وہ الیکشن کمیشن پر اس لئے اٹیک کر رہے ہیں کہ فارن فنڈنگ کا کیس محفوظ ہو چکا ہے۔

 مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان نے سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ لیا ہوگا کہ تین اپریل کو عدالتیں کیوں کھلیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے تحریک عدم اعتماد سے بچنے کے لئے سائفر کا سہارا لیا لیکن وہ سپریم کورٹ میں سائفر پیش نہیں کر سکے۔ سپریم کورٹ نے بھی کہا کہ اگر 8 مارچ کو سائفر ملا تھا تو عمران خان وزیراعظم تھے، انہوں نے اس کی تحقیقات کیوں نہیں کروائی، عوام کو کیوں نہیں بتایا، الیکشن کیوں نہیں کروایا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان صرف اور صرف اپنے اقتدار کو بچانا چاہتے تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان کان کھول کر سن لیں پنجاب کے ضمنی انتخاب میں فساد کرنے کی کوشش کی تو قانون اپنا راستہ لے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کا فساد اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی تو اس کے ذمہ دار عمران خان ہوں گے۔ وفاقی اور صوبائی داخلہ کی وزارتیں الیکشن کی مکمل مانیٹرنگ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اس میڈیا کا شکر ادا کرنا چاہئے جس کی آواز انہوں نے اپنے دور میں بند کی اور وہ میڈیا ان کی دو دو گھنٹے تقاریر نشر کر رہا ہے۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اداروں اور پاکستان کی ریاست کے خلاف بیانات آزادی اظہار رائے کے زمرے میں نہیں آتے، قانون اپنا راستہ بنا رہا ہے، سزائیں بھی دی جا رہی ہیں۔ آئین کی حدود وضع ہے، اس کو کراس نہیں کرنا چاہئے، آئین شکنی ہوئی تو قانون بھی اپنا راستہ لے گا۔

 ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں جب انتخابات تھے تو الیکشن کمیشن سے خط جاری ہوا کہ کوئی وزیر الیکشن مہم میں شرکت نہیں کر سکتا لیکن عمران خان نے الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑائیں، خود بھی الیکشن مہمات میں شامل ہوئے اور منصوبوں کا اعلان کرتے رہے، الیکشن کمیشن کو دھمکاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے وزراء نے الیکشن کمیشن کے احترام میں استعفے دیئے تاکہ کوئی اس الیکشن پر سوال نہ اٹھا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور پنجاب حکومتیں اس الیکشن کو پرامن، شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لئے پرعزم ہیں