کوئٹہ،19جولائی (اے پی پی): وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور بیرک گولڈ کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک برسٹو نے کہا ہے کہ ریکوڈک منصوبے پر رواں سال اگست میں کام شروع ہوجائیگا جبکہ پیداواری عمل 2027 تک متوقع ہے،منصوبے کی بدولت بلوچستان کے لوگوں کو تعلیم، صحت غذائی تحفظ و بنیادی سہولیات سمیت ساڑھے سات ہزار سے زائد روزگار کے مواقع میسر آئیں گے جن میں ساڑھے چار ہزار کے قریب طویل المدتی ملازمتیں بھی شامل ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ریکوڈک منصوبے سے متعلق ہماری تجاویز سے اتفاق کا اظہار کیا ہے اور وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے تمام مطالبات کو من و عن تسلیم کرکے بلوچستان کے عوام کے حقوق کا تحفظ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے لئے فضاء سازگار ہے اور حکومت کے ساتھ ساتھ عوام بھی اپنے مہمانوں کے تحفظ کیلئے پیش پیش ہے، ریکوڈک سمیت تمام غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مکمل سیکورٹی فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے سے متعلق کوئی بات خفیہ نہیں رکھی گئی اراکین صوبائی اسمبلی کو نو گھنٹے ان کیمرہ بریفنگ دی گئی، سردار اختر جان مینگل، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور محمود خان اچکزئی سمیت تمام سیاسی قیادت سے ملاقات کرکے انہیں ریکوڈک منصوبے سے متعلق آگاہی دی اور اس ضمن میں صوبائی حکومت نے اتفاق رائے کے بعد ہی فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعلی ٰبلوچستان نے کہا کہ مجموعی طور پر آمدن کا 25 فیصد حصہ بلوچستان کو ملے گا، منصوبے کا تخمینہ ستر ملین ڈالر ہے۔انہوں نے کہا کہ ایڈوانس رائلٹی میں پہلے سال بلوچستان کو پانچ ملین ڈالر جبکہ دوسرے سال ساڑھے سات ملین ڈالر ملیں گے اور کمرشل پیداور کے آغاز پر ہر سال دس ملین ڈالر بلوچستان کو ملیں گے جس صوبے میں ترقی کے نئےدور کاآغاز ہوگا۔
بیرک گولڈ کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک برسٹو نے کہا کہ ریکوڈک بلو چستان میں سب سی بڑی غیرملکی سرمایہ کاری کی بدولت پا ئیدارخوشحالی کاباعث بنے گا،حکومت پاکستان اور بیرک کمپنی کے درمیان حتمی معاہدوں پر کام جاری ہے، شراکت داری کے تحت 50 فیصد حصہ بیرک کمپنی کا ہوگا جبکہ حکومت پاکستان اور بلوچستان کے پاس 25،25 فیصد حصے ہوں گے، بلوچستان حکومت کو بنا کسی سرمایہ کاری کے رائلٹی اور ڈیویڈنڈ بھی حاصل ہوں گے،بلوچستان اور اس کے عوام کو ان کے جائز حقوق ملیں گے، بیرک کمپنی قانونی اقد امات کے بعد فیزیبیلٹی سٹڈی کو اپ ڈیٹ کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ ریکوڈک ذخائر سے تانبے اور سونے کی پہلی پیداوار سال 2027 تک متوقع ہوگی،ریکوڈک کی کان کی منصوبہ بندی روایتی اوپن پٹ سے کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ریکو ڈک کان کی عمر کم سے کم 40 سال ہوگی،منصوبہ ساڑھے سات ہزار سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر سکے گا جن میں چار ہزار کے قریب طویل مدتی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی،بلوچستان میں صحت، تعلیم، فوڈ سکیورٹی کی بہتری سمیت متعدد ترقیاتی پروگراموں کا بھی آغاز کیا جائے گا۔
بیرک گولڈکارپویشن کے صدر اورچیف ایگزیکٹیو برسٹوکاکہنا تھاکہ ریکوڈ ک گولڈپراجیکٹ کمپنی بلوچستان حکومت اورسرکاری انٹر پرائیززکے مابین ایک پارٹنرشپ ہے جوآنے والی نسلوں کیلئے پائیدارخوشحالی کاباعث بنے گا۔ برسٹو کا کہنا تھا کہ بیرک و حکومت پاکستان نے اس امر کو یقینی بنانے کیلئے کام کیا ہے کہ بلوچستان کو ریکوڈک سے حاصل ہونے والے فوائد کا خاطر خواہ حصہ ملے، ریکوڈک میں بلوچستان کی شیئر ہولڈنگ کی فنڈنگ کلی طور پر اس کے پارٹنرز و وفاقی حکومت کی جانب سے کی جائے گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ صوبے کو کان کی تعمیر و آپریشنز کی مد میں بناکسی مالیاتی حصہ داری کے اپنی25 فیصد ملکیت کے مطابق ڈویڈنڈز، رائلٹی اور دیگر فوائد حاصل ہوں گے۔











