کوئٹہ،20جولائی (اے پی پی):اسلامی جمہوریہ ایران کا 12 ارکان پر مشتمل اعلی سطحی حکومتی وفد گوادر پہنچ گئے ۔ ڈپٹی کمشنر گوادر کپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد نے گبد 250 بارڈر پر وفد کا استقبال کیا اور انہیں روایتی بلوچی چادریں پہنائیں ۔
بعد ازاں ایرانی وفد نے جوائنٹ بارڈر ٹریڈ سے متعلق مشترکہ اجلاس میں شرکت کی ، اجلاس میں پاک ایران سرحد پر دوطرفہ تجارت کے منصوبوں پر غور کیا گیا جبکہ بارڈر ٹریڈ سے متعلق گبد 250 بارڈر پر جوائنٹ بارڈر مارکیٹ کے پائلٹ منصوبوں ،پاک ایران سرحدی معاملات،سرحدی تجارت اور ویگر مختلف مشترکہ امورپر تبادلہ خیال اور جائزہ لیا گیا ۔
اجلاس میں سیکورٹی امور اور مشترکہ سرحدی منڈیوں کے فروغ پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی اور کہا گیا کہ سرحدی علاقوں میں مزید تجارتی مرکز کھلے جائیں گے۔اجلاس میں فریقین نے معیشت، تجارت، روابط، سلامتی، توانائی، تعلیم اور لوگوں کے تبادلے سمیت تمام شعبوں میں تعلقات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ خطے کے حالات پر بھی تبادلہ خیال کیا جبکہ پاکستان اور ایران کااقتصادی تعاون کے فروغ پر بھی زور دیا اور گزشتہ سال طے پانے والے معاملات پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ دونوں پڑوسی ممالک سرحدی سکیورٹی کے حوالے سے مسلسل رابطے میں رہیں گے،متعدد معاملات پر پاکستان اور ایران کے خیالات یکساں ہیں اور مشاورت، تعاون اور مشترکہ معاونت سے دوطرفہ تعلقات کی راہ میں حائل رکاوٹیں بھی ختم ہوجائیں گی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد کا کہنا تھا کہ پاک ایران دوطرفہ تجارت سے گوادر میں تجارت اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ ہمسایہ ملک ایران سے تجارت سے سرحدی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہونگے۔











