اسلام آباد،11اگست (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علماءکونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو آئین کے مطابق تمام حقوق حاصل ہیں، بھارت میں اقلیتوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، پاکستان کا آئین اقلیتوں کو ان کے حقوق دیتا ہے۔
اقلیتوں کے قومی دن کے حوالے سے سنٹر فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کے زیر اہتمام منعقدہ مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ 11 اگست اقلیتوں کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، اقلیتوں کے حقوق کا ہر سطح پر تحفظ کیا جا رہا ہے ، ملک بھر میں پاکستان علماءکونسل اور قومی یکجہتی کونسل سے متصل کمیٹیاں کام کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ توہین رسالت ؐو توہین مذہب کے قانون کا غلط استعمال ختم ہوا ہے،اقلیتوں کوآئین پاکستان میں جو حقوق دئیے گئے ہیں وہ کوئی غصب نہیں کر سکتا۔
چیئرمین پاکستان علماءکونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پیغام پاکستان استحکام پاکستان کی علامت بن چکا ہے۔انہوں نے کہا پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق سب کو زندگی گزارنے میں آزادی حاصل ہے، پاکستان میں مختلف مذاہب اور مسالک کے لوگ بستے ہیں، پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل حقوق حاصل ہیں، دین اسلام ہمیں نا صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں کے حقوق کی پاسداری کا بھی درس دیتا ہے۔
حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والا رویہ دنیا کے سامنے ہے، آج بھارت میں اقلیتوں کے حقوق پامال ہورہے ہیں، ہندوستان میں مسجدوں اور چرچ کو جلایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان میں ہزار درجے اقلیتوں کو بہتر تحفظ حاصل ہے، ہندوستان میں اقلیتوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیرہ چیئرمین علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے صدر نشین پروفیسر ڈاکٹر صاحبزادہ ساجدالرحمن نے کہا کہ بحثیت مسلمان ہم پر فرض ہے کہ ہم اقلیتوں کو تمام حقوق مہیا کریں، پاکستان میں سب لوگوں کے ساتھ اجتماعی خیر خواہی کی فضا موجود ہے، ہمارے ملک میں اقلیتوں کو مکمل حقوق حاصل ہیں۔
سیکرٹری جنرل شعیہ علماء کونسل علامہ عارف واحدی نے اپنے خطاب میں مذاکرہ کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ہم نے ملک میں امن و سلامتی کے لئے مل کر کام کرنا ہے، اگر ہم مثبت سوچ رکھیں گے تو یہ ملک ترقی کرے گا۔
اس موقع پر پیس اینڈ ڈویلپمنٹ فائونڈیشن کی ڈائریکٹر رومانہ بشیر اور معروف اقلیتی رہنما روہت کمار ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا۔











