دادو،10ستمبر (اے پی پی):آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کی سیلابی صورتحال سے بچاؤ کیلئے منصوبہ بندی کر رہے ہیں ،تمام مخیر حضرات سے درخواست ہے کہ وہ سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے آگے بڑھیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو دادو کے سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورہ کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ انہوں نے پاکستان کےسیلاب سے متاثرہ تمام علاقوں کا د ورہ کیا ہے ، سیلاب سے سب سے زیادہ تباہی دادو میں ہوئی ہے ، منچھر جھیل اور حمل جھیل کے درمیان سو کلومیٹر کا فاصلہ مٹ گیا ہے ۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ ملک کے دیگر سیلاب زدہ علاقوں میں تقریباً امدادی کام مکمل ہو چکا ہے وہاں کسی بھی ناگہانی صورتحال پر لوگوں کو ریسکیو کر لیا جاتا ہے لیکن دادو میں اب بھی ریسکیو اور ریلیف کا کام جاری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ دادو شہر کے ارد گرد اب بھی پانی کا بڑا زور ہے ۔ ڈپٹی کمشنر نے شہر کو محفوظ بنانے کے لئے پاک فوج اور شہریوں سے مل کر بند بنائے ہیں ۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ ملک بھر سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امداد بھجوائی جارہی ہے ۔ سندھ کے مخیر حضرات کو بھی مشکل کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے آگے آنا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں صرف عالمی برادری کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے ، ہماری اپنی بھی ذمہ داری ہے ، حالانکہ عالمی برادری نے ہماری مدد شروع کر دی ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ یو ایس ایڈ اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے نمائندے بھی یہاں آئے ہیں ۔امریکہ ، چین ، یورپی ممالک سمیت عالمی برادری سے امداد پہنچنا شروع ہو گئی ہے ۔
آرمی چیف نے کہاکہ ہم دریائوں سے سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار تھے تاہم معمول سے زیادہ بارشیں ہوئی جہاں سال میں 500ملی میٹر بارش ہوتی تھی وہاں ایک ہفتے میں 1700ملی میٹر بارش ہوئی ۔ انہوں نے کہاکہ دریائے سندھ کے مغربی کنارے کے علاقوں میں زیادہ تباہی ہوئی ، ہمیں مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچنے کے لئے منصوبہ بندی کرنا ہو گی ۔ اس حوالے سے ہم نے کام شروع کر دیا ہے اور انجینئرز کو ٹاسک دے دیا گیا ہے ، وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کو آئندہ ہفتے اس حوالے سے بریفنگ دیں گے ۔
آرمی چیف نے کہاکہ اس حوالے سے آرمی ماہرین سے بھی مدد لیں گے ۔ بے گھر افراد کے لئے فیبریکیٹڈ ویلیج بنائیں گے ، پچاس سے سو گھروں کے لئے یہ ویلیج چند روز میں تیار ہو جائے گا ،فی گھر پر پانچ لاکھ روپے لاگت آئے گی ، اس کے لئے بلوچستان یا سندھ میں جگہ کا انتخاب کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ سیلاب متاثرہ علاقوں بالخصوص دادو میں ڈینگی ملیریا سمیت دیگر امراض پھیل رہے ہیں ، یہاں اضافی میڈیکل ٹیمیں بھیجیں گے ۔ ضلعی انتظامیہ سے مل کر ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔











