اسلام آباد،11ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریاں بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں،آج دنیا پر ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستان کی بڑے پیمانے پر مدد کرے،اتنی بڑی آفت اور معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا اکیلے مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان کے پاس وسائل نہیں ہیں۔
پی ٹی وی ورلڈ سے اتوار کو ٹیلی کاسٹ ہونے والے اپنے خصوصی انٹرویو میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کو بیان کرنے کے لئے ان کے پاس الفاظ نہیں،ایسی قدرتی تباہی کا مشاہدہ کیا جو ناقابل تصور ہے،میرے ملک پرتگال کے رقبے سے تین گنا بڑا رقبہ پانی میں ڈوبا ہواہے۔انہوں نے کہا کہ یہ قدرتی آفت واضح طور پر ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہے۔سیلاب سے عوام کو شدید تکالیف کا سامنا ہے، حالیہ سیلاب بہت بڑے پیمانے پر انسانی المیہ کو جنم دےرہاہے۔ایسے لوگوں سے بھی ملا جن کے اپنے گھر اور فصلیں تباہ ہوگئیں لیکن اس کے باوجود وہ اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر ہمسایوں کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں،سخاوت،یکجہتی اور عزم وہمت کی ایسی مثالیں ہمیں حوصلہ دیتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ تباہی واضح طور پر موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہے ،آج دنیا پر ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستان کی بڑے پیمانے پر مدد کرے،اتنی بڑی آفت اور معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا اکیلے مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان کے پاس وسائل نہیں ہیں،اس لئے جو ممالک دنیا میں ماحولیاتی تبدیلیوں کا سبب بن رہے ہیں ان کی طرف سے نا صرف پاکستان کی اس مشکل گھڑی میں بھرپور مدد کی ضرورت ہے بلکہ ہمیں فطرت کے خلاف جنگ بھی ختم کرنا ہوگی،فطرت ہمیں تباہ کن انداز میں وہ کچھ لوٹا رہی ہے جو ہم نے اس کے ساتھ کیا،اس کا نشانہ وہ لوگ نہیں جو فطرت کو آلودہ کررہے ہیں،اس کا شکار وہ لوگ ہیں جنہیں موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات سے کم تحفظ حاصل ہے۔