بورے والا،01 نومبر(اے پی پی): وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اقتصادی امور چوہدری فقیر احمد آرائیں نے کہا ہے کہ پاکستان کو سیلاب کی تباہ کاریوں کا جو سامنا کرنا پڑا اسکی سب سے بڑی وجہ عالمی ماحولیاتی تبدیلی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کو معاشی طور پر کھربوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے اس صورتحال میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو چاہیئے کہ پاکستان کی اس مشکل وقت میں مدد کریں، قرضے معاف کرکے نئے امدادی پیکیج کا اعلان کیا جائے تاکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی مستقل بحالی اور سسکتی انسانیت کو اسکے پاوں پر کھڑا کیا جاسکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوشل ویلفیئر اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ سوسائٹی،گروگرین نیٹ ورک اور سول سوسائٹی نیٹ ورک کے زیر اہتمام پریس کلب میں “پاکستان کی پکار ماحولیاتی انصاف کا تقاضا” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا
انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لئے وزیر اعظم کی درخواست پر ورلڈ بینک نے 150 ملین، ایشین ڈویلپمنٹ بنک نے 110 ملین اسکے علاوہ دیگر ممالک سے بھی خاطر خواہ امداد حاصل کی گئی، وزیر اعظم اپنی قوم اور ملک کے لئے سب کے سامنے ہاتھ پھیلا رہے ہیں جس پر منفی پراپیگنڈا کیا جارہا ہے۔
وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اقتصادی امور چوہدری فقیر احمد آرائیں نے کہا کہ وزیر اعظم کو قوم کی بہت فکر ہے جسکے لئے وہ دن رات کام کررہے ہیں، اگر ہم باشعور قوم ہیں تو پہلے سے لئے گئے قرضوں کی واپسی کا حل نکالنا ہے تاکہ ہم اپنا قرض اتار کر ایک خود دار قوم بن سکیں۔انہوں نے کہا کہ 65 بلین ڈالر کے قرضے ہمارے ذمہ ہیں ہمیں احساس ذمہ داری پیدا کرنا ہوگا ۔
تقریب سے ڈاکٹر ساجد ندیم پرنسپل زرعی یونیورسٹی سب کیمپس بورے والا،شیخ شہزاد مبین پیٹرن انچیف سول سوسائٹی نیٹ ورک ،ملک فاروق اعوان جوائنٹ سیکرٹری پی ٹی آئی جنوبی، صدر پریس کلب اصغر علی جاوید،انسپکٹر ماحولیات محمد جاوید،ایس ڈبلیو سی ڈی ایس کے صدر محمد شیر خاں کھچی اورسید زاہد حسین مشہدی نے بھی خطاب کیا جبکہ سیمینار میں سید علی رضا اسٹیٹ آفیسر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، پاکستان مسلم لیگ ن ضلعی صدر یوتھ ونگ منطور برکت ماڑی والا،سید سجاد حسین بخاری گلوبل یوتھ آرگنائیشن،پاکستان کسان اتحاد چوہدری انور گروپ مہران،محکمہ صحت،محکمہ جنگلات،محکمہ سوشل ویلفیئر بورےوالا ،پریس کلب ساہوکا، تاجروں،کسانوں،سول سوسائٹی،طلباءاور دیگر نمائندہ شخصیات نے بھی شرکت کی۔











