اسلام آباد،15 فروری(اے پی پی ): سفیر پاکستان مسعود خان نے کہا کہ پاک امریکہ دو طرفہ تعلقات مزید تعاون و پائیدار شراکت داری کی جانب بڑھ رہے ہیں، گزشتہ سات دہائیوں میں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات استوار ہوئے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار سفیر پاکستان مسعود خان نےکنیکٹیکٹ کے دورے کے دوران ییل یونیورسٹی میں ساؤتھ ایشین اسٹڈی کونسل کے زیر اہتمام “علاقائی امن و استحکام کے لیے پاک امریکہ شراکت داری “کے موضوع پر منعقدہ گفتگو کے موقع پر خطاب کے دوران کیا۔مسعود خان نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سیکورٹی، معیشت اور عوامی تبادلوں پر مبنی تھے جس سے ابتدائی مراحل میں ہی مضبوط شراکت داری کی بنیاد رکھی گئی۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نےسرد جنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔
مسعود خان نے کہا کہ پاک امریکہ دو طرفہ تعلقات کےاسٹریٹجک پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ، موجودہ وقت میں دونوں ممالک وسیع البنیاد شراکت داری کی جانب بڑھ رہے ہیں جن میں تجارت ،سرمایہ کاری، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی، آئی ٹی اور زراعت سمیت دیگر شعبہ جات میں بھی تعاون جاری ہے۔
مسعود خان نےافغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد سے پاک امریکہ دو طرفہ تعلقات کی مطابقت اور غیر یقینی صورتحال کے حوالے سے افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ اعلی سطحی ملاقاتوں سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات وسیع البنیاد اور مضبوط اقتصادی شراکت داری کی جانب گامزن ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور امریکہ بدستور پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ تقریباً 80 سے زیادہ امریکی انٹرپرینیورز جن میں پراکٹر اینڈ گیمبل، ایبٹ اور کارگل شامل ہیں 1لاکھ 50 ہزار ملازمین کے ساتھ پاکستان میں کئی دہائیوں سے کاروبار کر رہے ہیں اور تقریباً 1 ملین گھرانوں کی کفالت کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ، پاکستان کے فروغ پزیر ٹیک سیکٹر میں عالمی ٹیکنالوجی کے سرمایہ کاراور وینچر کیپیٹلسٹ راغب ہیں جس سے پاکستان میں ٹیک سیکٹر کی صلاحیت میں نہ صرف بہتری آرہی ہے بلکہ نئے کاروباری روابط اور مواقع بھی پیدا ہورہے ہیں۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ اس سال امریکہ میں داخلہ لینے والے پاکستانی طلباء کی تعداد 17 فیصد اضافے کے ساتھ 8 ہزار تک پہنچ چکی ہے جن میں خاص طور پر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، انجئینرنگ اور شعبہ ریاضی میں ترقی کے زیادہ امکانات ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان 25 ہزار سے زائد طلباء کے نیٹ ورک کے ساتھ امریکی فل برائٹ سکالرشپ حاصل کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے تاہم یہ خطے کے دیگر ممالک کے طلباء کی تعداد کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اسی ضمن میں حکومت پاکستان اپنے طلباء کے اندراج کو بڑھانے کے لیے جامع حکمت عملی کے ساتھ اقدامات کر رہی ہے۔
سفیر پاکستان مسعود خان نے کہا کہ پاکستانی نالج کوریڈور پروگرام پر نظر ثانی ہماری اولین ترجیح ہے جس کے تحت اگلے 10 سالوں میں 10 ہزار پاکستانی طلباء اور پیشہ ور افراد کو اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا بھیجا جائے گا۔انہوں نے ییل یونیورسٹی کے ڈین اور دیگر فیکلٹی ممبران کو دوطرفہ تبادلے کے پروگراموں کو فروغ دینے خصوصاً دونوں ممالک کی زرعی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون کو بڑھانے کے لیے سفارت خانے کی جانب سے کی جانے والی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔
بعد ازاں سفیر پاکستان نے شرکاءکے ساتھ ایک انٹرایکٹو سیشن کیا جس میں طلباء نے پاک امریکہ تعلقات کے مستقبل اور خطے میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے سوالات بھی کیے۔











