اسلام آباد۔12اپریل (اے پی پی):وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا ہے کہ ملکی جامعات کو ایسی تحقیق پر توجہ مرکوزکرنے کی ضرورت ہے جو معاشرتی و معاشی مسائل کا حل پیش کرسکے جبکہ محققین خصوصاً جامعات کے اساتذہ کو اپنے متعلقہ شعبہ جات میں ایسی تحقیق کرنا چاہئیے جو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ان کی پہچان بن جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریسرچ پبلیکیشن اور ریسرچ پراجیکٹ گرانٹس23-2022 کی تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب میں کیا۔انہوں نے جدید تحقیق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریسرچ پبلیکیشن گرانٹس دینے کا مقصد بہترین ریسرچرز پیدا کرنا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ جامعات صحیح معنوں میں تحقیق سے ہی پہچانی جاتی ہیں اس لئے اوپن یونیورسٹی تحقیقی کلچر کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ ڈاکٹر ناصر محمود نے ایوارڈ حاصل کرنے والے فیکلٹی ممبران و دیگر کو مبارکباد دیتے ہوئے انہیں تحقیق کے میدان میں مزید بہتر کام کرنے کی ہدایت کی۔وائس چانسلر نے آفس آف ریسرچ ٗ انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن(اورک) کو ہدایت کی کہ فیکلٹی ممبران کی مشاورت سے اگلے سال سے بہترین تدریسی ایوارڈ دینے کی پالیسی بھی مرتب کی جائے۔ واضح رہے کہ یونیورسٹی بہتر کتاب لکھنے یا ایچ ای سی کے منظور شدہ جرائد میں تحقیقی مقالہ شائع کرانے پر طلبہ اور فیکلٹی ممبرز کو کیش انعامات دیتی ہے، فیکلٹی ممبرز کو اندرون ملک یا بیرون ملک کسی بھی شہر میں منعقد ہونے والی کسی بھی کانفرنس میں تحقیقی مقالہ پیش کرنے کے لئے ٹرانسپورٹ اور رہائشی سہولتیں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔تقریب میں رجسٹرار، راجہ عمر یونس، اورک کی ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹرصائمہ ناصر، ڈینز اور یونیورسٹی کے پرنسپل افسران شامل تھے۔ تقریب کا انعقاد آفس آف ریسرچ ٗ انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن نے کیا تھا جس میں ریسرچ اینڈ پبلیکیشن گرانٹس کے تحت232فیکلٹی ممبران، انتظامی عملہ اور طلبہ کو ایوارڈ دیئے گئے، Yکیٹیگری میں مقالہ کے اشاعت پر -/20,000، Xکیٹیگری میں اشاعت پر -/25000اور Wکیٹیگری میں مقالے کے اشاعت پر -/30,000کیش انعامات دئیے گئے۔اورک کی ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹرصائمہ ناصر نے اورک کے قیام کے مقاصد، خدمات، اہداف اور کامیابیاں تفصیل سے بیان کیں۔











