موسمیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے  بین الاقوامی لاس اینڈ ڈیمج فنڈ کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک اور فعال کرنے کی ضرورت ہے؛ وفاقی وزیر سینیٹر شیری رحمان

18

اسلام آباد،10مئی(اے پی پی):وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان  نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے بین الاقوامی لاس اینڈ ڈیمج فنڈ کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک اور فعال کرنے کی ضرورت ہےہے،موسمیاتی تبدیلی میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے لیکن عالمی ردعمل سست روی کا شکار ہے جس کے باعث مستقبل میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریبات کے سلسلے میں تیسرے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس سیشن میں موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر سینیٹرشیری رحمان نے کہا کہ حالیہ سیلاب نے پاکستان کی تاریخ کا نقشہ ہی تبدیل دیا،گزشتہ چند سالوں سے پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر  پاکستان میں درجہ حرارت مسلسل تین سال تک شدت اختیار کرتا رہا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 2022 کے سیلاب اور  موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سےکثیر الجہتی  فریم ورک   برائے عالمی ذمہ داری   کے حوالے سے بھی اجلاس ہوا ہے۔

وفاقی وزیرنے  کہا کہ پاکستان نے 2022 میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب دیکھا۔ پاکستان کا ایک تہائی حصہ ڈوب گیا۔تین کروڑ تیس لاکھ لوگ براہ راست متاثر ہوئے اور پاکستان کا اربوں ڈالر کاانفراسٹرکچر تباہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے خطرات کے ساتھ روایتی طریقوں سے مقابلہ نہیں کر سکتی،ہمیں چاہیے کہ عالمی ادارے اور ممالک ملکر اس معاملے پر سنجیدگی سے اقدامات کریں ۔انہوں  نے کہا کہ پاکستان نے “کاپ 27 “ میں عالمی برادری کو یہ باور کروایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے مقابلہ کرنے  کے لیے عالمی سطح کا فنڈ قائم کرنا ضروری ہے جسکے تحت “لاس اینڈ ڈیمج “ فنڈ قائم کیا گیا جو غریب ممالک کو قدرتی آفات سے نمٹنے کے کیے مالی معاونت فراہم کرے گا تاہم اسے فعال کرنے کی ضرورت ہے۔

پارلیمانی سیکرٹری برائے موسمیاتی تبدیلی ناز بلوچ نے کہا  کہ صاف   ماحول اور پینے کا  پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے،ہمارا یہ حق جہاں آئین میں باقاعدہ درج ہے اس میں  بنیادی ماحولیاتی حقوق شامل کیے  جانے چاہئیں۔

کنوئینیر نیشنل ٹاسک فورس ایس ڈی جیز ایم این اے رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ پاکستان کے سیلاب متاثرہ علاقے پینے کے پانی اور خوراک کی عدم  دستیابی سے غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، ملکی ترقی اورعوام کیساتھ پارلیمان کا تعلق مضبوط کرنے میں  اہم کردار ہے۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے متاثرہ ممالک کو ایک دوسرے کی مدد کرنا ہو گی،وقت کی ضرورت کے تحت مضبوط روابط قائم ہونے چاہئیں۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ عمران حسین نے کہا کہ پاکستان سمیت پوری دنیا کو موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کا سامنا ہے ۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کےلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔

 ڈپٹی سپیکر برائے ریاستی کونسل اومان شیخ ڈاکٹر الخطاب بن غالب بن علی الہنائی نے کہاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اومان کی حکومت سرگرم عمل ہے۔اومان کاربن گیسز کے اخراج کو کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے، جن میں ماحول دوست توانائی کے منصوبے اور کاربن کیپچر کرنے کے پراجیکٹ شامل ہیں۔ اومان میں شمسی توانائی کے تین بڑے منصوبے لگائےگئے ہیں جس سے ماحول دوست بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ پاکستان کے مسائل اومان سے یکسر مختلف ہیں جسکے لیے الگ اقدامات کی ضرورت ہے۔

سیشن سے چیئرمین پاک شام پارلیمانی فرینڈشپ کمیٹی منطاہر ابراہیم اور ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق سرگرم کارکن زینب وحید نے خطاب کیا اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔سیشن میں برادر ممالک کے سفارتی مندوب ،جامعات اور مدارس کے طلباء نے  شرکت کی۔