عمران خان نے سائفر کا بے دریغ استعمال کرکے قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا، ایف آئی اے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کر رہی ہے؛وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ 

16

اسلام آباد،20جولائی  (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان نے سائفر کا بے دریغ استعمال کرکے قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا، چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر متعلقہ محکموں کو کبھی واپس نہیں کیا، اس معاملہ پر ایف آئی اے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کر رہی ہے، عسکری تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی آرمی ایکٹ کے تحت ہوتی ہے۔

 جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ سائفر کے معاملہ پر بہت زیادہ بحث ہو رہی ہے، کئی ماہ پہلے سائفر کا معاملہ وفاقی کابینہ میں زیر غور آیا، وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس حوالے سے قومی سلامتی کمیٹی کے پرانے منٹس کو دیکھا گیا، اس  وقت کے وزیراعظم عمران خان نے سائفر کو اپنی تحویل میں لیا اور ایک جلسہ میں عوام کے سامنے لہرایا، اس کے بعد سائفر متعلقہ محکمہ کو واپس نہیں لوٹایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کلاسیفائیڈ دستاویزات ہوتے ہیں، وہ دستاویزات پبلک نہیں کی جا سکتیں اور نہ ہی کسی سے شیئر کیا جا سکتا ہے، یہ معلومات دو ممالک کے تعلقات کے بارے میں تھیں اس لئے ان کو کوڈڈ زبان میں بھیجا جاتا ہے اور پھر ڈی کوڈ کیا جاتا ہے اور متعلقہ حکام کو اس تک رسائی ہوتی ہے۔

 وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ قومی سلامتی کو پس پشت ڈالتے ہوئے ان کاغذات کا بے دریغ استعمال کیا گیا، یہ معاملہ قانون کے مطابق انکوائری کیلئے ایف آئی اے کو بھیجا گیا ہے، آفیشل سیکرٹ اور ضابطہ فوجداری کی منشاء یہ ہے کہ اس طرح کے معاملہ پر قانونی کارروائی کیلئے وفاقی حکومت منظوری دیتی ہے، سیکرٹری داخلہ کو اختیار دیا گیا، انہوں نے یہ معاملہ ایف آئی اے کو بھجوایا، ایف آئی اے نے سابق وزیراعظم کو طلب کیا ہے، انہوں نے اپنا مؤقف دینے کی بجائے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے، لاہور ہائیکورٹ نے اس معاملہ کو حکومت کو سنے بغیر اس پر حکم امتناع دے دیا، 6 ماہ تک یہ معاملہ سٹے کے باعث تاخیر کا شکار ہوا، حکومت کی درخواست پر کچھ دن قبل حکم امتناع ختم کر دیا گیا ہے، ان کے پرنسپل سیکرٹری نے متعلقہ محکمہ سے کاغذات وصول کرکے ان کے حوالے کئے۔

 وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ان کو متعلقہ جگہ پر ان کاغذات کو محفوظ رکھنا چاہئے، اعظم خان نے اپنے بیان میں بتایا کہ اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ان کاغذات کو کس مقاصد کیلئے استعمال کیا، انہوں نے تحریک عدم اعتماد سے بچنے اور سیاسی مقصد کیلئے ان کاغذات کو استعمال کیا، اس کو جلسہ میں لہرا کر ایک بیانیہ دیا گیا، اس وقت کے وزیر قانون نے ایوان میں اس کارڈ کو استعمال کیا، قومی اسمبلی کے صدر نشین نے اس پر بحث نہیں کرائی، تحریک عدم اعتماد لانے والی اپوزیشن کو قومی اسمبلی میں بولنے کا موقع دیا جاتا ہے، حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا مؤقف سننے کے بعد سپیکر رولنگ دیتے ہیں، پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ارکان اسمبلی کا مؤقف سنے بغیر ڈپٹی سپیکر نے عدم اعتماد کی تحریک کو ڈیڑھ منٹ میں مسترد کر دیا، اس غیر قانونی رولنگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عمران خان نے صدر عارف علوی کو قومی اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس کی اور چند منٹوں میں ملک کے سب سے بڑے ایوان کو تحلیل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین شکنی کے خلاف اپوزیشن کے محرکین نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، عدالت نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ غیر آئینی قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی بحال کر دیا اور عدم اعتماد کا عمل آئینی طریقہ کار اپنایا گیا۔

 وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ حکومت نے اپنی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری پوری کی، قانون کے مطابق یہ معاملہ ایف آئی اے کو بھیجا گیا، یہ معاملہ زیر تفتیش ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ایف آئی اے انویسٹی گیشن ٹیم نے 25 مئی کو طلب کیا ہے، اعظم خان اہم گواہ ہیں، انہوں نے 164 کے تحت مجسٹریٹ کو بیان دیا ہے، اس بیان اور عمران خان کے جواب کو مدنظر رکھتے ہوئے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی متعلقہ شقوں اور دفعات کے تحت ایف آئی اے مزید کارروائی کا فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈرامہ اور کھیل سے ملک کو نقصان پہنچا، اس دوست ملک کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے، عالمی سطح پر تعلقات کی دوبارہ بحالی میں وقت لگا جس کے ملک کی معاشی صورتحال پر اثرات پڑے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انکوائری، انویسٹی گیشن اور تفتیش شفافیت، میرٹ اور قانون کے مطابق کرانے کیلئے پرعزم ہے، اس مقدمہ کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے۔

بعد میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر غفلت کے باعث دستاویزات کو نقصان پہنچا ہے تو دو سال تک سزا ہو سکتی ہے، اگر شہادت ہے کہ یہ دستاویزات ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کی گئیں اور ملکی سلامتی کو نقصان پہنچا ہے اس کیلئے 14 سال کی بھی سزا ہے اور اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، اٹارنی جنرل کے دلائل سے اتفاق کرتا ہوں، فوجی عدالتوں میں سویلین کے پہلے بھی ٹرائل ہوئے ہیں، جنرل مشرف کیس میں طے ہوا تھا کہ آرمی ایکٹ کے تحت سویلین کا ٹرائل ہو سکتا ہے۔

وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 2015ء میں اس وقت کی حکومت نے اے پی ایس سانحہ اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے کے تناظر میں فوجی عدالتوں سے متعلق قانون سازی کی کیونکہ اس وقت سویلین ہی حملہ آور، متاثرین اور واقعہ کی جگہ سویلین کی تھی، 17 ججوں نے اس ترمیم کا جائزہ لیا، دو سال کیلئے خصوصی انتظام تھا، پھر دو سال توسیع دی گئی، آرمی ایکٹ میں اپیل کا حق ہے، آرمی چیف اپیل خود بھی سن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی بار کیس میں 17 رکنی بنچ نے قرار دیا کہ ہر مستحق کو اپیل کا حق ہے، عالمی قوانین کے تحت ملزم کو جو حقوق حاصل ہیں موجودہ کیسز میں ملزموں کو وہ سب حقوق حاصل ہیں، یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، کلبھوشن کا معاملہ عالمی عدالت انصاف میں گیا، عالمی عدالت انصاف نے بھی پاکستانی قوانین پر اعتماد کا اظہار کیا، اعظم خان نے 164 کا بیان اپنی مرضی سے دیا ہے۔