سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس ، فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2023″   سمیت مختلف امور پر غور کیا گیا

39

اسلام آباد۔11اکتوبر  (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں  “فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2023″بل پر غور کیا۔ بل پیش کرنے والے سینیٹر بہرامند خان تنگی نے کہا کہ جھوٹے الزامات اور بدنیتی پر مبنی مجرمانہ کارروائی کا بڑھتا ہوا رجحان ان دنوں ایک تشویشناک مسئلہ بن گیا ہے۔ اس بل کا مقصد پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 182 اور ضابطہ فوجداری کے شیڈول-II میں ترمیم کرکے ان جرائم کے لیے سزا کی مدت میں اضافہ کرنا ہے۔ اسپیشل سیکریٹری داخلہ نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ معاملہ صوبوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، ان سے جواب طلب کرنے کے لیے خط بھی لکھا گیا ہے جس کا ابھی انتظار ہے۔ تاہم جواب موصول ہونے کے بعد کمیٹی کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ آئندہ دس روز میں صوبوں کا انٹیک جمع کرایا جائے۔پاکستان کوسٹ گارڈز کی جانب سے کمیٹی کو  ادارے  کی  کارکردگی اور کامیابیوں کے ساتھ ساتھ اس  کے چیلنجز کے بارے میں بریفنگ دی گئی ۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنر ل نے  بتایا کہ تنظیم کا بڑا ہدف کوسٹل بیلٹ کے ساتھ اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن کو روکنا ہے، تاہم پی سی جی کسٹمز ایکٹ، پولیس ایکٹ 1861 اور کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینس ایکٹ 1997 سے اضافی اختیارات حاصل ہیں ۔ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ  پی سی جی کی کل تعداد تقریباً 5,671 ہے اور اہلکاروں کا بڑا حصہ مسلح افواج سے تعلق رکھتا ہے۔  بجٹ کی رکاوٹوں کے باوجود، تنظیم گزشتہ ایک سال میں 19.25 ٹن  منشیات ضبط ، 2555 پاکستانی، افغانی، ایرانی اور نائجیرین تارکین کو غیر قانونی طور پر ساحلی علاقے کو عبور کرنے سے روکا۔ انہوں نے  بتایا کہ ادارے کے قیام کے بعد سے تمام رینک کے کل 51 افسران شہید ہوئے ۔ کمیٹی نے اسمگلنگ کی روک تھام میں پی سی جی کی کوششوں کو سراہا اور تجویز پیش کی کہ موجودہ دور میں اسمگلنگ کی لعنت سے نمٹنے کے لیے تنظیم کو مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے۔کمیٹی نے جعلی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (سی این آئی سی) اور بلیک مارکیٹ میں شہریوں کے خاندانی ڈیٹا کی دستیابی کے ساتھ ساتھ ایک ہی شناختی کارڈ پر متعدد سموں کے اجراء کے معاملے پر بھی غور کیا جو غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہو رہی ہیں۔ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ جعلی شناختی کارڈ کے اجرا میں نادرا کا کچھ عملہ اور بیرونی عناصر ملوث ہیں۔کراچی میں محسود قبیلے کو پاسپورٹ کے حصول میں درپیش مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ اینڈ امیگریشن مصطفیٰ جمال قاضی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کسی فرد کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا۔ تاہم پاسپورٹ کے اجراء میں تاخیر ہوئی ہے کیونکہ محسود قبیلے کے لوگ کراچی میں اپنے پاسپورٹ حاصل کر رہے ہیں، جب کہ قوانین میں کہا گیا ہے کہ ہر شہری کو اپنا پہلا پاسپورٹ اپنے متعلقہ ضلع میں حاصل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 39 ارب روپے کا ریونیو کمانے کے باوجود محکمہ پاسپورٹ اینڈ امیگریشن جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے میں ناکام رہا ہے جو کہ پاسپورٹ کے بروقت اجراء میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔کمیٹی نے سینیٹ ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے معامل ، پلاٹ کے قبضے کی تفصیلات، قبضے کے لیے اہل الاٹیوں کی تعداد، اور قبضے کے لیے دستیاب زمین کی موجودہ صورتحال پر غور کیا ۔ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ سوسائٹی 1996 میں رجسٹرڈ ہوئی اور 2005 سے 2016 تک 1,054 کنال اراضی حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ انہوں نے  کہا کہ سینیٹ کی جانب سے عدم الحاق کا نوٹس موصول ہونے کے بعد سوسائٹی کا نام تبدیل کر کے فیڈرل ریذیڈنٹس کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی رکھ دیا گیا۔ پاکستان کے تاہم سینیٹر کامل علی آغا نے دلیل دی کہ یہ سوسائٹی سینیٹ آف پاکستان نے قائم کی تھی، اور این او سی بھی سینیٹ کے نام سے جاری کیا گیا تھا۔ انتظامی ناکامیوں کی وجہ سے پرائیویٹ پارٹیوں نے سوسائٹی کا انتظام سنبھال لیا۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے استدعا کی کہ سینیٹ ملازمین کی جانب سے ممبر شپ کے حصول کے لیے کی گئی ادائیگیوں کی تفصیلات کمیٹی کو پیش کی جائیں۔ کمیٹی نے اپنے اراکین سے سوالات کی فہرست فراہم کرنے کو کہا۔