ملتان،9نومبر(اے پی پی): سیکریٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر جنوبی پنجاب مہر محمد حیات لک نے کہا ہے کہ بیماریوں کی نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنے سے وبائیں روکنے میں حیرت انگیز کامیابی ملی ہے،نگرانی کے موثر نظام کی بدولت اس سال خسرہ اور ٹائیفائڈ کی وباؤں کو پھیلنے سے روکا گیا۔
بیماریوں کی موثر سرویلینس کے بارے ملتان میں ٹرینرز کی تین روزہ تربیتی ورکشاپ میں تقریب اسناد سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ویکسین کی مدد سے بیماریوں کو پھیلنے سے روکنے کے ساتھ وبائی امراض کی نگرانی کے نظام کا مستحکم ہونا بھی بہت ضروری ہے۔
ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری محکمہ پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کئیر جنوبی پنجاب مہر محمد حیات لک نے کہا کہ صوبہ میں بیماریوں کی نگرانی کے نظام کی استعداد میں اضافہ سے سے وباؤں کو بروقت روکنے میں کافی زیادہ مدد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے اور پاکستانی ماہرین کو معیاری تربیت فراہم کرنے پر وہ عالمی ادارہ صحت کے شکر گزار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حال ہی میں نگرانی کے نظام کے اعداد و شمار کی بدولت ہم ڈیرہ غازی خان خان، مظفر گڑھ اور رحیم یار خان میں خسرہ کی وبا کو روکنے میں کامیاب ہوئے۔
ڈائریکٹر توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ امراض کی موثر اور بروقت سرویلینس کے لیے نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے اور مختلف وباؤں کو روکنے کے نظام کو عالمی ادارہ صحت کے معیارات اور ہدایات کو مقامی حالات کے مطابق تیار کیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تربیت یافتہ ماسٹر ٹرینرز اپنے اضلاع میں ماہرین اطفال، ڈاکٹرز، اے ایس وی، ڈی ایس وی، لیڈی ہیلتھ سپر وائزرز، ویکسینیٹر اور دیگر عملہ کو تربیت فراہم کریں گے۔
ڈاکٹر مختار احمد نے بتایا کہ وسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات پنجاب اس وقت 12 مہلک بیماریوں کے خلاف مفت ویکسین فراہم کر رہا ہے جن میں پولیو، خسرہ، روبیلا، نوزائیدہ تشنج، خناق، کالی کھانسی، بچوں کی ٹی بی، ہیپاٹائٹس بی، گردن توڑ بخار، نمونیا، روٹا ڈائریا اور ٹائیفائیڈ شامل ہیں۔
صوبائی سربراہ عالمی ادارہ صحت ڈاکٹر جمشیداحمد نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت صوبہ پنجاب میں بیماریوں کی نگرانی کے نظام مضبوط بنانے کے لیے حکومت پنجاب سے تعاون جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن انسانی تاریخ میں صحت عامہ کی سب سے زیادہ مؤثر ایجاد ہے اور ویکسین کی مدد سے ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں جانیں بچاتی جاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ درست اعدادوشمار کا بہترین تجزیہ ہی درست فیصلہ سازی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
تربیتی ورکشاپ کا اہتمام نجی ہوٹل میں توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات پنجاب نے عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے کیا گیا۔تربیتی ورکشاپ میں عالمی ادارہ صحت کی جدید ہدایات کی روشنی میں ضلعی سرویلنس کوآرڈینیٹرز اور ضلعی ڈیزیز سرویلنس رسپانس یونٹس کے نمائندگان کی استعداد کو بڑھانے کے لئے تربیتی سیشنز کا انعقاد کیا گیا۔
تربیتی ورکشاپ میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز جنوبی پنجاب ڈاکٹر مہر محمد اقبال، ڈپٹی سیکریٹری ٹیکنیکل ڈاکٹرماریہ ممتاز، عالمی ادارہ صحت کے بین الاقوامی ماہر ڈاکٹر سنڈے آڈو نے شرکت کی۔
ورکشاپ میں بہاولپور، اٹک، بھکر، فیصل آباد، گجرات، حافظ آباد، قصور، خوشاب، لاہور، لودھراں، منڈی بہاوالدین، میانوالی، ملتان، ننکانہ صاحب، پاکپتن، رحیم یار خان، راولپنڈی، ساہیوال، سرگودھا، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور وہاڑی کے اضلاع کے کوارڈینیٹرز اور فوکل پرسن افسران نے شرکت کی۔
ہعالمی ادارہ صحت کے ٹیکنیکل آفیسر (ای پی آئی) ڈاکٹر محمد عمران قریشی اور ٹیکنیکل آفیسر (وی پی ڈی سرویلنس) ڈاکٹر مہروز سلیم نے تکنیکی تربیت فراہم کی۔ ڈائریکٹر توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات ڈاکٹر مختار احمد نے شرکاء کو ویکسین دینے، کولڈ چین، محفوظ طریقہ سے ٹیکہ جات لگانے، نمونہ جات لینے کا طریقہ کار، ترسیل اور اعدادوشمار اکٹھا کرنے کے لیے جدید طریقہ کاربارے آگاہ کیا۔











