اسلام آباد،20نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود نے کہا ہے کہ پاکستان کوہنر مند افرادی قوت اور بیرونی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر اپنی توجہ مرکوز کرنا ہوگی اور معیشت خاص طور سے ریٹیل سیکٹرکے مسائل کو حل کرنا ہوگا۔ان خیالات کااظہارانہوں نے پیرکویہاں انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیزاسلام آباد میں سابق گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین کی کتاب“ ترقی کے راستے :بھارت ، پاکستان ، بنگلہ دیش1947 تا 2022” کی تقریب رونمائی سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔سابق گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین نے اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں انہوں نے 1947 سے 1990 اور1990 سے لے کر 2022ءتک پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کی معاشی راہوں کا اجمالی خاکہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ تینوں ممالک نے 1990 تک نسبتاً بہتر معاشی سفر کیا اور5 سے لے کر6 فیصد تک جی ڈی پی نمو حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو ہمارے پاس وسائل موجود نہیں تھے، ہمارے پاس زرمبادلہ نہیں تھا، سرکاری ملازمین کو سیٹھ حبیب اورآدم جی جیسے صنعت کار تنخواہیں دیتے رہے، لائف میگزین نے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا کہ پاکستان چھ ماہ سے زیادہ تک اقتصادی طور پر زندہ نہیں رہ سکتا، اس وقت 6ملین پناہ گزین بے سرو سامانی کی حالت میں تھے۔ انہوں نے کہاکہ ہم ان سول سرونٹس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے نوزائیدہ ملک کو چلانے اور اسے ایک سمت دینے میں اپنا کردار ادا کیا، بھارت سے آنے والے ان سول سرونٹس اور صنعتکاروں نے ملک میں صنعتوں کی بنیاد رکھی ، پناہ گزین1965کی جنگ ، 1971 کی جنگ ، 70کے عشرے میں نیشنلائزیشن کی پالیسی اورافغان جنگ ایسے عوامل تھے جنہوں نے پاکستان کی اقتصادی نمو پر اثرات مرتب کئے ہیں ، ان جھٹکوں کے باوجود پاکستان نے1947 سے لے کر 1990 تک 5 سے لے کر 6 فیصد تک کی سالانہ شرح سے ترقی کی ، بھارت اور بنگلہ دیش نے 1991 کے بعد اپنی معیشتوں کو کھلا کرنا شروع کیا، اس کے برعکس پاکستان کی معیشت 60کے عشرے میں آزاد تھی ، اس دور میں تربیلا اورمنگلا ڈیم جیسے منصوبے بنائے گئے ، انڈس بسین کی تعمیر ہوئی ، اس وقت عالمی بینک نے تسلیم کیا تھا کہ دنیا بھرکے انجینئروں کو اری گیشن کے شعبے میں پاکستانی انجینئرز سے سیکھنا چاہئے اور پی آئی اے دنیا کی پہلی ایئرلائن تھی جو تمام بڑے براعظموں میں فعال تھی۔
ڈاکٹرعشرت حسین نے کہاکہ یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ ہماری نمو بیرونی معاونت کی وجہ سے ہوتی رہی ، آمرانہ ادوار میں اگرچہ نمو کی شرح زیادہ رہی مگر اس میں پائیداریت زیادہ نہیں تھی اسی طرح بھارت میں اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کی وجہ سے معاشی حالات خراب ہوئے ، پاکستان نے زیادہ ترحالات کے مطابق پالیسیاں بنائیں جس کی وجہ سے تبدیلیاں زیادہ ہوئیں اور نمو پائیدار بنیادوں پر نہیں ہوسکی۔ انہوں نے کہاکہ بنگلہ دیش کی نمو میں اس کے ٹیکسٹائل کا حصہ زیادہ ہے ، جی ایس پی پلس سے بھی بنگلہ دیش کو زیادہ فائدہ ہوا ہے ، اسی طرح بھارت اوربنگلہ دیش کی نسبت پاکستان نے انسانی وسائل میں زیادہ سرمایہ کاری نہیں ہوئی ہے حالیہ برسوں میں پاکستان میں بی آئی ایس پی اورخواتین کی مالیاتی شمولیت کے اقدامات خوش آئند رہے اور یہ تسلسل جاری رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اورڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے سے اقتصادی نمو کے عمل کو تیز کیا جاسکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ماحولیاتی مسائل اور گلیشیئرزکے پگھلنے کے مسئلے کو سنجیدہ لینا ہوگا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ بھارت میں آمدنی میں تفاوت زیادہ ہے ، بھارت کے 12ملین لیبر فورس میں آئی ٹی کے شعبے میں صرف 5ملین لیبر فورس ہے ، بنگلہ دیش میں سماجی اشاریے بہتر ہیں جس کی بنیادی وجہ خواتین کی لیبر اورمالی شمولیت میں سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنے گورننس کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہاکہ سٹرٹیجک ڈیپتھ کی پالیسی اب ختم ہوچکی ہے اور یہ جیواکنامکس کا دور ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی تجارت سے تمام ممالک کوفائدہ پہنچ سکتا ہے، عمومی طور پر بڑی معیشتوں کے مقابلے میں چھوٹی معیشتوں کو تجارتی معاہدوں سے زیادہ فائدہ پہنچتا ہے، شمالی امریکا کے تجارتی معاہدے سے امریکا کے برعکس کینیڈا اور میکسیکو کو زیادہ فوائد مل رہے ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر عشرت حسین نے بہترین تحقیق کی ہے جس سے ہمارے پالیسی ساز اور اقتصادی شعبے کے ماہرین بھرپور استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس کتاب میں میکرو اکنامک وجوہات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے جو ہمارے معاشی حرکیات پر اثر انداز ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کوہنر مند افرادی قوت اور بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ، اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر اپنی توجہ مرکوز کرنا ہوگی ، معیشت اور ریٹیل سیکٹرکے مسائل کو حل کرنا ہوگا، پاکستان کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی زیادہ محنت کی ضرورت ہے ، ہمیں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے پر توجہ دینا ہوگی کیونکہ اسی سے ہمارے مسائل حل ہونگے۔قبل ازیں سابق اکانومسٹ ڈاکٹر ادریس خواجہ اور ڈائریکٹر جنرل انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز سہیل محمود نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔