اسلام آباد،19 دسمبر(اے پی پی ) :بین المذاہب مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ بات وفاقی وزیر مذہبی امور انیق احمد نے فرانسیسی سفیر نکولس گیلے سے اپنے دفتر میں ملاقات کے دوران کہی۔ انیق احمد کا مزید کہنا تھا کہ یہ تہذیبوں کی جنگ نہیں ، لاعلمی کی جنگ ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ مزاحمت سے زیادہ مفاہمت پر توجہ دی جائے۔
ملاقات میں معاشروں کے اندر انتہاء پسندی و شدت پسندی کے خاتمے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ پر ایک دوسرے سے تعاون کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ فلسطین میں جاری انسانیت سوز مظالم کی مذمت کرتے ہوئے اس نسل کشی کے فوری روک تھام اور مسئلہ کے پائیدار حل کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
وزیر مذہبی امور انیق احمد نے کہا کہ ہسپتالوں، پناہ گزین کیمپوں، سکولوں اور عبادتگاہوں میں محصور نہتے شہریوں ، معصوم بچوں پر بمباری اور ظلم و ستم کی مہذب دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ بات چیت کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دنیا بھر میں موجود اقلیتی آبادیوں کو عزت، اعتماد اور آسانیاں فراہم کی جائیں۔
فرانسیسی سفیر نے کہا کہ نئی نسل کو مذاہب کے فرق کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ رواداری اور محبت سے پیش آنے کی تعلیم دینا ہو گی، دنیا میں مختلف انتہاءپسند تحریکوں نے معاشروں میں عدم برداشت کو پروان چڑھایا۔
فرانسیسی سفیر نکولس گیلے نے کہا کہ سانحہ جڑانوالہ کے بعد حکومتی اور علماءکرام کی سطح پراقلیتوں کی سرپرستی اور ایسے واقعات سے اعلان لاتعلقی کے واضح موقف کو پوری دنیا میں سراہا گیا۔











