کوئٹہ، 30 جنوری(اے پی پی) نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی کی زیر صدارت چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا ،سی سی آئی میٹنگ میں شرکت کے باعث وزیراعلیٰ بلوچستان نے اسلام آباد سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقدہ اجلاس میں نگران وزیر داخلہ و قبائلی امور میر زبیر خان جمالی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں اور متعلقہ حکام نے شرکت کی ، اجلاس میں آئی جی پولیس بلوچستان عبدالخالق شیخ نے گزشتہ شب مچھ میں پیش آنے والے واقعہ پر بریفنگ دی اور تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔
نگران وزیراعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کی تمام پہلووں سے تحقیقات ضروری ہے الیکشن کے قریبی دنوں میں رونما ہونے والے ان واقعات کو انتخابی عمل سے عوام کو دور رکھنے کے خدشے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، حالیہ واقعات کے بعد سکیورٹی پروفائلنگ پر ازسر نو نظر ثانی کرتے ہوئے اقدامات کو مزید بہتر بنانا ہوگا اور عوام کو پرامن ماحول میں حق رائے دہی کے استعمال کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔
نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ مچھ میں سیکورٹی فورسز کے جوانوں نے محدود تعداد میں ہونے کے باوجود نہایت بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا جس کی وجہ سے نقصانات کا حجم کم رہا ، انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے ایک سپاہی کی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی ایک افسر اور کسی بھی قبائلی نواب و سردار کی ہے ،عوام کے جانی و مالی تحفظ پر معمور سیکورٹی فورس کا ہر جوان ہمارے لئے باعث افتخار ہے، پاک فوج، ایف سی، پولیس اور لیویز کا ہر وہ سپاہی جو عوام کے جان و مال کے تحفظ پر معمور ہے، اس کی جان ہمیں اپنی طرح ہی عزیز ہے یہ سپاہی محفوظ نہیں ہوگا تو بحالی امن کی ذمہ داریاں کون سر انجام دے گا؟۔
نگرا ن وزیراعلیٰ بلوچستان نے سبی میں بم دھماکے سے متعلق بھی تحقیقات کرکے ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ہدایت کی ، انہوں نے کہا کہ الیکشن کے غیر معمولی حالات میں سیکورٹی کے انتظامات کو بہتر سے بہتر بنایا جائے ، تمام ادارے باہمی رابطہ کاری سے ہر طرح کی تخریبی کارروائیوں پر قابو پانے کیلئے اقدامات اٹھائیں ۔
میر علی خان ڈومکی نے فرائض کی انجام دہی کے دوران جام شہادت نوش کرنے والے ایف سی پولیس اور تمام سیکورٹی فورسز کے شہداءکو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بحالی امن کے لئے شہداءکی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔











