اسلام آباد۔26جون (اے پی پی):قومی اسمبلی نے وزارت خزانہ و محصولات کے 18کھرب، 72 ارب، 29 کروڑ، 88 لاکھ 98 ہزار مالیت کے 4 مطالبات زرکی منظوری دیدی ہے، ایوان نے اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 59 تحاریک مسترد کر دیں ۔
بدھ کوقومی اسمبلی میں وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ایوان میں وزارت خزانہ و محصولات کے مطالبات زرپیش کئے۔ مطالبات زر پرعالیہ کامران، عمیر نیازی اور عائشہ نذیر اور دیگر کی جانب سے کٹوتی کی 59 تحاریک پیش کی گئیں جس کی وزیرخزانہ نے مخالفت کی۔
ایوان نے کثرت رائے سےوزارت خزانہ کے 4 ارب، 39 کروڑ، 16 لاکھ، 19 ہزار، گرانٹس اعانتیں اور متفرق اخراجات کیلئے 18 کھرب، 15 ارب، 56 کروڑ، 70 لاکھ روپے، ریونیو ڈویژن کیلئے 10کروڑ، 92 لاکھ 69 ہزار اورفیڈرل بورڈ آف ریونیو کیلئے 52 ارب، 23 ارب، 10 لاکھ 10 ہزار روپے کے مطالبات زرکی منظوری دیدی۔
ایوان نے اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 59 تحاریک مسترد کر دیں۔ قبل ازیں کٹوتی کی تحاریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے زرتاج گل، فیصل امین، عالیہ کامران، داوڑکنڈی، علی جدون، اویس حیدر اور دیگر نے کہا کہ آئی ٹی کی ترقی کیلئے اقدامات کئے جائیں، نان فائلرز کوفائلرز بنانے کیلئے ترغیبات دی جائے، سود حرام ہے، سود کے خاتمہ کیلئے اقدامات کئے جائیں، کم سے کم اجرت کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ایف بی آر کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، ٹیکس کی بنیادمیں وسعت کیلئے عوام کو ترغیبات دینا ضروری ہے، بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ درست نہیں ہے۔ بعد ازاں سپیکر نے ان مطالبات زر پر کٹوتی کی تحریکیں ایوان میں پیش کیں جنہیں کثرت رائے سے مسترد جبکہ مطالبات زر کو منظور کر لیا گیا۔











