وزیراعلیٰ بلوچستان نے قومی شاہراہوں پر احتجاج وامن وامان سے متعلق ضلعی انتظامی افسران کااجلاس طلب کر لیا

2

کوئٹہ۔ 26 فروری (اے پی پی): حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے قومی شاہراہوں پر احتجاج وامن وامان سے متعلق ضلعی انتظامی آفیسران کااجلاس جمعرات کوطلب کیاہے ،نان ایشوز کو ایشو بنا کر عمر ایوب نے ثابت کیا کہ وہ اپوزیشن لیڈر کے منصب سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے،بلوچستان حکومت الزام تراشی کی سیاست سے گریز کرتی ہے، عمر ایوب کی جماعت خیبرپختونخوا میں 10 سال برسر اقتدار رہی، وہاں امن و امان کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو وزیر اعلیٰ ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شاہد رند نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو بلوچستان کے دورے کی دعوت دی تھی لیکن افسوس ایک آئینی عہدے پر اس کو اتفاقیہ کام ملا ہے، عمر ایوب نے دورہ بلوچستان کے بجائے سیاسی انتشار پر مبنی بیانیہ جاری رکھا،عمر ایوب کا حالیہ بیان ان کی غیر ذمہ داری اور آئینی منصب سے ناآگاہی کا عکاس ہے ۔پارلیمانی نظام میں اپوزیشن لیڈر کا اہم مقام ہے ایک اور ان کے  بیان   ان  کی غیر سنجیدگی کو ظاہر  کرتا  ہے، وفاقی و صوبائی حکومتیں مل کر صوبے میں امن و امان کے قیام کیلئے کام کررہی  ہیں۔

 وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی  کی  ان کیلئے دعوت اب بھی موجود ہے۔بلوچستان حکومت الزام تراشی کی سیاست سے گریز کرتی ہے، عمر ایوب کی جماعت خیبرپختونخوا میں 10 سال برسر اقتدار رہی، وہاں امن و امان کی صورتحال سب کے سامنے ہے، بلوچستان حکومت ملک کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے مشاورت اور مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کئی مرتبہ امن و امان کے حوالے سے مشاورت کی دعوت دے چکے ہیں،  وزیر اعلی بلوچستان کو صوبے میں جلسے کیلئے مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مسئلہ ہوتا ہے تو قومی شاہراہ بند کیا جاتا ہے اس سلسلے میں ایک فارمولا کے تحت وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اہم اجلاس طلب کیا ہے جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

 صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میر لیاقت لہڑی تبلیغی اجتماع سے آرہے تھے انہیں معاملہ جو سمجھ آیا اسی طرح بہتر سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کا مسئلہ ہے دہشتگرد شاہراہوں پر آتے ہیں لیکن سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائیاں بھی جاری ہے، حکومت بلوچستان کوئی پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنا چاہتی خیبر پختونخوا میں عمر ایوب کی جماعت کی حکومت ایک عرصے سے رہی ہے۔

 گورنر بلوچستان کا بیان وفاقی حکومت سے متعلق ہے۔ حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ الزامات کی سیاست سے نہ خیبر پختونخوا میں امن قائم ہوا اور نہ بلوچستان میں ہوگا، سیاسی انتشار سے صرف سوشل میڈیا کے “کی بورڈ واریئرز” کو مواد فراہم ہوگا، حقیقت میں کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

قومی شاہراہوں کی بندش کے مسئلے پر وزیر اعلی نے اعلی سطحی اجلاس طلب کر لیا ہے، تمام ضلعی انتظامیہ کو تھری ٹئیر فارمولا دیا گیا تھا اس کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔