اسلام آباد ، 19 مئی ( اے پی پی): وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے جغرافیائی شناخت سے متعلق قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جغرافیائی مصنوعات کی شناخت (جی آئی) نہ صرف مقامی مصنوعات کو عالمی سطح پر منفرد پہچان دیتی ہے بلکہ یہ نظام مقامی ثقافت، ہنر اور انسانی محنت کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
کانفرنس میں وزیر تجارت نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں اب تک 200 سے زائد مصنوعات کو ممکنہ جی آئی کے طور پر شناخت کیا جا چکا ہے، جن میں سے 20 مصنوعات کو باضابطہ طور پر رجسٹر کیا گیا ہے۔ ان میں باسمتی چاول، چلغوزہ، سندھڑی آم اور ملتان کی نیلی مٹی سے بنی مصنوعات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزارت تجارت نے بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستانی مصنوعات کے حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے ہیں، جن میں یورپی یونین میں باسمتی چاول کے تحفظ کے لیے جاری قانونی کارروائیاں شامل ہیں۔
جام کمال کے مطابق جی آئی نظام نہ صرف تجارت بلکہ ماحولیات اور مقامی کمیونٹیز کی پائیداری کا بھی ذریعہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فوڈ اینڈ ایگریکلچر کے تعاون سے چلغوزہ کو گلگت بلتستان، وزیرستان، شیرانی اور چترال میں ممکنہ جی آئی کے طور پر متعارف کرایا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت علیحدہ جی آئی رجسٹری کے قیام اور نظام کی بہتری کے لیے قومی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستانی مصنوعات کی مؤثر برانڈنگ کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نظام کے استحکام سے چھوٹے کسانوں، کاریگروں اور سپلائی چین سے وابستہ افراد کو بھی براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
کانفرنس میں وفاقی و صوبائی اداروں، تاجروں، ماہرین اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی، جہاں تربیتی سیشنز اور مشاورت کا عمل جاری ہے۔ وزیر تجارت نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے جی آئی نظام کے فروغ کے لیے تعاون اور تجاویز دینے کی اپیل کی اور کہا کہ محدود آگاہی اور ادارہ جاتی روابط کا فقدان جی آئی نظام میں بڑی رکاوٹ ہے۔
جام کمال نے کہا کہ پاکستانی مصنوعات کو عالمی شناخت دلانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور جی آئی نظام کے فروغ سے مقامی برآمد کنندگان کو عالمی سطح پر زیادہ منافع حاصل ہوگا۔ انہوں نے فوڈ اینڈ ایگریکلچر کے تعاون پر اظہار تشکر بھی کیا۔











