اسلام آباد، 30 مئی (اے پی پی): وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکٹر آئی 8 میں 10 منزلہ نادرا میگا سنٹر کا سنگ بنیاد رکھا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئی ایٹ نادرا میگا سنٹر کی تکمیل جون 2026 تک مکمل کر لی جائے گی۔
اجلاس میں زائدالمیعاد شناختی کارڈز پر جاری تمام سمز کو فوری طور پر بلاک کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں 2017 یا اس سے پہلے کے شناختی کارڈز پر جاری سمز بند کی جائیں گی جبکہ اگلے مراحل میں 2017 کے بعد کے منسوخ شدہ کارڈز پر بھی یہی پالیسی لاگو کی جائے گی تاکہ صرف فعال شناختی کارڈ پر ہی سمز جاری رہیں۔
چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل محمد منیرافسر کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے کے تعاون سے ان موبائل سمز کو بلاک کیا جا رہا ہے جو وفات پا جانے والے افراد یا میعاد ختم شدہ شناختی کارڈز کے حامل افراد کے نام پر رجسٹرڈ ہیں،انہوں نے کہا کہ مختلف سرکاری محکمے اور سروس فراہم کنندگان شہریوں کی بائیومیٹرک معلومات اپنی مقامی ڈیٹابیسز میں محفوظ کر رہے ہیں، جس سے یہ حساس معلومات غلط استعمال اور چوری کے خطرے سے دوچار ہیں۔
چیئرمین نادرا نے کہا کہ نادرا کے محفوظ اور تصدیق شدہ ڈیٹا بیس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فیشل ریکگنیشن نظام کا استعمال کیا جائے،۔ خاص طور پر ان شہریوں کی مدد کے لیے جنہیں فنگر پرنٹس کی تصدیق میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
وزارت داخلہ کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو شہریوں کی بائیومیٹرک معلومات کی علیحدہ سٹوریج بند کرنے کی ہدایات جاری کی جائیں گی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہدایت جاری کی کہ ملک بھر میں چہرہ شناسی (فیشل ریکگنیشن) ٹیکنالوجی کے نفاذ کو 31 دسمبر 2025 تک یقینی بنایا جائے، اس عمل کی نگرانی وزارت داخلہ کرے گی۔
نادرا کی سروسز کو ملک بھر کی 44 ایسی تحصیلوں اور مخصوص یونین کونسلوں تک توسیع دی گئی جہاں پہلے یہ سہولیات دستیاب نہیں تھیں،اسلام آباد کی تمام 31 یونین کونسلز میں 30 جون 2025 تک نادرا خدمات دستیاب ہوں گی۔
وزیر داخلہ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بہتر خدمات فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔وزیرداخلہ کی وزارت خارجہ کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ایک جامع جائزہ لینے کی ہدایت،تاکہ ان ممالک اور خطوں کی نشاندہی کی جا سکے جہاں نادرا خدمات کی زیادہ ضرورت ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملتان، سکھر اور گوادر میں نادرا کے ریجنل دفاتر کے قیام کی منظوری دی۔
چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر نے ادارے کی رسائی، سروس ڈیلیوری اور ڈیجیٹل تبدیلی کے حوالے سے پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے نادرا میں اصلاحات پر پیش رفت کا جائزہ لیااور نادرا کی گزشتہ سال کی نمایاں کامیابیوں کو سراہا جن کے تحت 87 نئے رجسٹریشن مراکز اور 417 اضافی کاؤنٹرز قائم کیے گئے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل آئیڈنٹیٹی کارڈ (NIC) رولز 2002 میں وفاقی حکومت کی جانب سے اہم ترامیم کی منظوری دی گئی ہے،بچوں اور خاندانوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کو اپ ڈیٹ کیا گیا ہے تاکہ قانونی وضاحت اور فراڈ کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ان ترامیم پر عملدرآمد کے لیے نادرا نے ایک مؤثر شناختی تصدیقی نظام متعارف کروایا ہے، جس میں فیشل ریکگنیشن اور آئرس (Iris) کو اضافی بایومیٹرکس کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس ضمن میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA)، وفاقی تحقیقاتی ادارہ(FIA)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ شناختی فراڈ، سم کے غلط استعمال اور بایومیٹرک تضادات کے تدارک کے لیے ضروری تعاون جاری ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ نادرا کا بڑا فوکس PAK ID موبائل ایپ کی افادیت اور خصوصیات کو مزید بہتر بنانا ہے، اب تک اس ایپ کو 70 لاکھ سے زائد دفعہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔حال ہی ایپ میں نئی سہولیات شامل کی گئی ہیں جیسے کہ ڈیجیٹل شناختی کارڈ کا اجرا، پنشنرز کے لیے “پروف آف لائف” اور وفاقی اسلحہ لائسنس کی تجدید۔











