لاہور، 20 جون (اے پی پی): صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے ننکانہ صاحب کا دورہ کیا اور ڈی سی آفس ننکانہ صاحب میں اقلیتی کمیونیٹیز کے لیے گرانٹس کی تقسیم کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں سکھ، مسیحی اور ہندو برادری کے مجموعی طور پر 550 خاندانوں میں مالی امدادی چیکس تقسیم کیے گئے، جن میں سکھ برادری کو 415، مسیحی خاندانوں کو 80 اور ہندو کمیونٹی کو 39 چیکس دیے گئے۔ یہ اقدام بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور اقلیتوں کی فلاح و بہبود کی سمت حکومت پنجاب کا ایک عملی قدم ہے۔
صوبائی وزیر رمیش سنگھ اروڑہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں تمام مذاہب کو برابر عزت اور حقوق دیے جا رہے ہیں۔ ایسٹر، ہولی، بیساکھی سمیت تمام اقلیتی مذہبی تہوار حکومتی سطح پر منائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایات پر اقلیتوں کے لیے 8.5 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، جس میں 4 ارب روپے عبادت گاہوں اور ترقیاتی اسکیموں، جب کہ 3.5 ارب روپے مینارٹی کارڈز کے لیے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنا حکومت پنجاب کا عزم ہے۔ فی خاندان گرانٹ کو 50 ہزار سے بڑھا کر 75 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔ 2025 کے دوران 22,800 اقلیتی خاندانوں کو براہ راست گرانٹس فراہم کی جائیں گی۔ صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ اقلیتی طلبہ کو CSS کی تیاری کے لیے سرکاری معاونت دی جا رہی ہے اور 15 طلبہ کو CSS اکیڈمی میں داخل کرایا گیا ہے۔ اقلیتوں کے لیے ڈیجیٹل لرننگ پروگرام پر عملدرآمد جاری ہے، جبکہ گرجا گھروں، گوردواروں کی بحالی اور مسیحی قبرستان کی توسیع پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ننکانہ صاحب اور سردار سرجیت سنگھ کے علاوہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی سماجی و سیاسی شخصیات نے بھی شرکت کی۔ رمیش سنگھ اروڑہ نے اختتام پر کہا کہ “اقلیت دوست پنجاب” محض نعرہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے، اور اقلیتوں کی محرومیوں کا خاتمہ ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔











