وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت ایک ہمہ گیر اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، محمد اورنگزیب

15

اسلام آباد،10 جولائی (اے پی پی ): وفاقی وزیر برائے خزانہ و ریونیو، سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت ایک ہمہ گیر اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، جس میں ٹیکسیشن، توانائی، سرکاری ادارے اور نجکاری جیسے کلیدی شعبے شامل ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کو 2047 تک تین کھرب ڈالر کی معیشت بنانے کے وژن کے حصول کے لیے پائیدار اقتصادی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آبادی میں تیزی سے اضافے اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے وجودی خطرات سے مؤثر انداز میں نہ نمٹا جائے۔

ان خیالا ت  کا اظہار انہوں نے  اسلام آباد میں منعقدہ ورلڈ پاپولیشن ڈے کی ایک اعلیٰ سطحی قومی تقریب سے خطاب  کرتے ہوئے کیا۔یہ تقریب وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و ہم آہنگی کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی۔  سینیٹر اورنگزیب نے پاکستان میں 2.55 فیصد کی آبادی میں اضافے کی شرح کی طرف توجہ دلائی اور اسے قومی ترقی، معاشی منصوبہ بندی اور سماجی بہبود کے لیے تشویشناک قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے 40 فیصد بچے نشوونما کی کمی  کا شکار ہیں، جو ملک کے مستقبل کی قیادت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے کا حل ایک مکمل، مربوط حکمتِ عملی کا تقاضا کرتا ہے، جس میں غذائیت، صفائی، صاف پانی، بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ اور آگاہی جیسے عناصر شامل ہیں ، جن پر تقریب میں موجود ماہرین اور علماء نے تفصیل سے روشنی ڈالی۔

وزیر خزانہ نے خواتین کو بااختیار بنانے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا، جو ملک کی آبادی کا نصف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی معیشت میں بھرپور شراکت، پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے خاص طور پر لڑکیوں میں تعلیمی محرومی اور سیکھنے کی کمی پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیا، اور تعلیم و ہنر کے فروغ میں سرمایہ کاری کو ناگزیر قرار دیا۔

مالی پالیسی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے، سینیٹر اورنگزیب نے قومی مالیاتی کمیشن (NFC) ایوارڈ میں آبادی کو ایک بنیادی تقسیم کا معیار بنانے کی تجویز کی حمایت کی۔ انہوں نے صحت اور منصوبہ بندی کے وزراء کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے انسانی ترقی کے جامع اشاریوں کو بھی بنیاد بنانا ہوگا۔

انہوں نے قومی بجٹ سازی میں ایک بنیادی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے مالی وسائل کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے، ترقیاتی اخراجات کو ملک گیر سطح پر ایک جامع حکمتِ عملی کے تحت استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال کا ترقیاتی بجٹ وفاق کی سطح پر ایک کھرب روپے ہے جبکہ صوبوں سمیت یہ رقم 4.2 کھرب روپے بنتی ہے، اور اصل چیلنج فنڈز کی دستیابی نہیں بلکہ ان کا مؤثر استعمال اور درست ترجیح بندی ہے۔

سینیٹر اورنگزیب نے عطیہ دہندگان (donors) کے ساتھ تعلقات اور ترقیاتی فنانسنگ کے انداز میں بھی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں زیادہ تر بین الاقوامی امداد انفراسٹرکچر پر خرچ ہوئی، لیکن اب ان وسائل کو انسانی سرمائے کی ترقی — بالخصوص صحت، تعلیم اور آبادی کے منصوبہ بندی ، پر مرکوز کرنا ہوگا۔

انہوں نے ورلڈ بینک کے ساتھ پاکستان کے دس سالہ “کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک” کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے چھ ستونوں میں سے چار کا تعلق آبادی اور ماحولیاتی تبدیلی سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے ، یعنی سالانہ تقریباً 600 سے 700 ملین ڈالر ، جو آبادی سے متعلق اقدامات پر خرچ ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان وسائل کا استعمال محض علامتی اقدامات (جیسے مانع حمل مصنوعات پر ٹیکس چھوٹ) تک محدود نہ رہے، بلکہ ان کا مؤثر اور جامع استعمال یقینی بنایا جائے۔

آخر میں وزیر خزانہ نے حکومت کی اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو ایک صحت مند، باصلاحیت اور ترقی یافتہ قوم بنانے کے لیے طویل المدتی، پائیدار اور سنجیدہ حلوں کو ترجیح دی جائے گی، اور ملکی و غیر ملکی وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔

۔   تقریب وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و ہم آہنگی کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی۔ تقریب میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات سید مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال، وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، ممتاز مذہبی اسکالرز، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور اعلیٰ حکومتی حکام نے شرکت کی۔