پاکستان شفاف، جامع اور مستقبل بین کاربن مارکیٹ کے قیام کے لیے پُرعزم ہے: مصدق ملک

18

اسلام آباد، 15 جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے عالمی ماحولیاتی ایجنڈے سے ہم آہنگ شفاف، جامع اور مستقبل بین کاربن مارکیٹ کے قیام کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔

یہ بات انہوں نے منگل کے روز ایس پی اے آر 6 سی کے وفد سے اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران کہی۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان آرٹیکل 6 کے تحت بین الاقوامی کاربن مارکیٹوں میں مؤثر شرکت کے لیے ادارہ جاتی اور تکنیکی تیاری کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسی کاربن مارکیٹ کی تعمیر کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے جو ماحولیاتی طور پر محفوظ اور معاشی طور پر بااختیار بنانے والی ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شفافیت، اعتبار اور شمولیت اس نظام کا بنیادی حصہ ہونی چاہیے اور ہم اس کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے قومی کوششوں کو عالمی بہترین طریقوں سے ہم آہنگ کرنے اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ ساتھ ملکی نجی شعبے سے روابط کو مستحکم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایس پی اے آر 6 سی کے ساتھ اشتراک ہمارے لیے ایک قیمتی موقع ہے کہ ہم سیکھیں، اپنائیں اور ایسے طریقہ کار نافذ کریں جو ہماری معیشت، ماحولیاتی اہداف اور عوام کے لیے موزوں ہوں۔

ڈاکٹر ملک نے پاکستان کی کاربن مارکیٹ کے مستقبل کی تشکیل میں نوجوانوں اور تعلیمی اداروں کے کلیدی کردار کو بھی اجاگر کیا، خاص طور پر ایس پی اے آر 6 سی کے تحت اسپانسر کیے گئے طلبہ تحقیقی پروگرام کے ذریعے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان ماہرین کی مہارت کو حقیقی دنیا کے حل میں تبدیل کرنا ناگزیر ہے۔ یہ محض ایک تکنیکی ایجنڈا نہیں بلکہ ترقی کا ایک موقع ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک کے یہ خیالات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان عالمی ماحولیاتی مالی معاونت کے حصول، کم کاربن منصوبوں کے فروغ، اور بین الاقوامی اخراجاتی تجارتی نظاموں کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم آج جو تیاری میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، وہ کل کے لیے پائیدار معاشی ترقی، ماحولیاتی لچک اور عالمی تعاون کے مواقع پیدا کرے گی۔