اسلام آباد، 16 جولائی )اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت زرعی زمینوں کو رہائشی سوسائٹیز میں تبدیل کرنے کے مسئلے پر اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی و صوبائی اداروں کے سینئر افسران، سی ڈی اے اور دیگر متعلقہ وزارتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ پاکستان میں زرعی زمینوں کی تیزی سے کمی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے اور اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو مستقبل میں خوراک کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ
آنے والی نسلوں کو خوراک کی دستیابی شدید خطرے میں ہے، اور فوڈ سیکیورٹی کے لیے ہمیں ابھی سے مؤثر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
احسن اقبال نے تجویز دی کہ اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں فوری طور پر عمودی تعمیرات کا آغاز کیا جائے تاکہ زرعی زمینوں پر دباؤ کم کیا جا سکے۔ انہوں نے ماحولیاتی تحفظ پر زور دیتے ہوئے درختوں کی کٹائی پر سخت قوانین بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ماحول کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اجلاس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ گزشتہ بیس برسوں میں کتنی زرعی زمین رہائشی سکیموں کی نذر ہو چکی ہے۔ احسن اقبال نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر متعلقہ ڈیٹا اکٹھا کریں تاکہ زمینی حقائق پر مبنی پالیسی تشکیل دی جا سکے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اربن پلاننگ کے بغیر پھیلتے ہوئے شہروں میں بنیادی سہولتوں کی کمی بحران کو جنم دے رہی ہے۔ ہم زرعی زمین کے بےدریغ استعمال سے نہ صرف اپنا ماحولیاتی توازن بگاڑ رہے ہیں بلکہ اپنی خوراک کا مستقبل بھی بیچ رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ زرعی زمینوں کے تحفظ کے لیے ایک مربوط قومی پالیسی اور قانون سازی ناگزیر ہے۔ اجلاس کے اختتام پر انہوں نے اعلان کیا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر نیشنل اربن ڈویلپمنٹ فریم ورک تشکیل دے گی تاکہ زرعی زمینوں کے غیرضروری استعمال کو روکا جا سکے۔یہ اجلاس مستقبل کی پائیدار ترقی اور غذائی تحفظ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔











