پاکستان کا اقوام متحدہ امن مشنز میں سیاسی حل پر زور؛سلامتی کونسل سے مسئلہ کشمیر پر مؤثر اقدام کا مطالبہ

35

اقوام متحدہ، 30 جولائی (اے پی پی): اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کےامن مشنز میں تاریخی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے مسئلہ جموں و کشمیر کے سیاسی حل پر زور دیا اور اقوام متحدہ سے اس تنازع پر فوری، منصفانہ اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

 اجلاس،”سیاسی حل کے فروغ کے لیے اقوام متحدہ کے امن مشنز کو ڈھالنا، ترجیحات اور چیلنجز” سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان اب تک چار براعظموں میں 48 امن مشنز میں دو لاکھ پینتیس ہزار سے زائد فوجی بھیج چکا ہے جن میں سے 182 اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کے تمام امن مشنز کی بنیاد سیاسی حل پر ہونی چاہیے اور مسئلہ جموں و کشمیر اس حوالے سے اقوام متحدہ کی ساکھ کا اصل امتحان ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اقوام متحدہ کا فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان (یو این ایم او جی آئی پی) جو لائن آف کنٹرول کی نگرانی کرتا ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تنازع ابھی تک حل طلب ہے۔

سفیر عاصم نے کہا کہ امن مشنز کا مقصد سیاسی عمل کو تقویت دینا ہونا چاہیے نہ کہ اس کی جگہ لینا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو غیر حقیقی مینڈیٹ سازی سے گریز کرنا چاہیے اور امن مشنز کی کامیابی کے لیے کونسل کا متحد اور پائیدار سیاسی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی سطح پر امن قائم کرنے کی کوششوں کو فروغ دیا جانا چاہیے اور پاکستانی امن فوجیوں کی ابیئی (یونیفصا) میں مقامی برادریوں کے ساتھ شراکت داری کو اس کی کامیاب مثال قرار دیا۔

انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ امن مشنز کا بجٹ عالمی فوجی اخراجات کا صرف صفر اعشاریہ تین فیصد ہے جو ان کی کارکردگی پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن مشنز کے انخلا کا فیصلہ زمینی حقائق کی بنیاد پر ہونا چاہیے نہ کہ کسی طے شدہ کیلنڈر کے مطابق۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قرارداد 2719 پر مؤثر عملدرآمد اور علاقائی تنظیموں جیسے او آئی سی، یورپی یونین اور آسیان سے قریبی شراکت داری ناگزیر ہے۔ مزید یہ کہ امن مشنز کے مینڈیٹ کی تیاری اور جائزے میں فوجی اور پولیس بھیجنے والے ممالک کو شامل کیا جانا چاہیے تاکہ زمینی تجربات پالیسی سازی میں جھلک سکیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان ایک مضبوط، جامع اور سیاسی بنیادوں پر مبنی اقوام متحدہ امن مشن نظام کی حمایت جاری رکھے گا جو اقوام متحدہ کے چارٹر پر مبنی ہو، انصاف کے اصولوں کو فروغ دے اور دنیا بھر کے تنازعات زدہ علاقوں خصوصاً جموں و کشمیر کے عوام کے لیے امن کی راہ ہموار کرے۔ انہوں نے کہا کہ امن مشنز کوئی جادوئی حل نہیں مگر یہ متروک بھی نہیں، سیاست راستہ دکھاتی ہے اور امن مشنز اس راستے کو محفوظ بناتے ہیں۔ سلامتی کونسل کو اس راستے اور منزل دونوں کی حفاظت کرنی ہوگی۔