اسلام آباد، 18 اگست ( اے پی پی): وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے جائزے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں این ڈی ایم اے اور متعلقہ وفاقی وزراء نے جاری امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ دی۔
اجلاس سے خطاب میں وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے وفاقی کابینہ اپنی ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کرے گی۔ انہوں نے تمام وفاقی اداروں کو متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور مکمل بحالی تک اپنی موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ متاثرین کی مدد اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی ہماری قومی ذمہ داری ہے، اور جب تک متاثرہ علاقوں کے آخری شخص تک مدد نہیں پہنچتی، متعلقہ وفاقی وزراء وہیں موجود رہیں گے۔
وزیرِ اعظم نے امدادی سامان کی تقسیم اور بحالی آپریشن کی نگرانی کے لیے وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان کو ذمہ دار مقرر کیا، جبکہ سڑکوں، پلوں، بجلی اور پانی سمیت دیگر سہولیات کی بحالی کی نگرانی متعلقہ وزراء خود کریں گے۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ این ایچ اے امداد کی راہ میں رکاوٹ بننے والی سڑکوں کی بحالی میں تاخیر نہ کرے اور وزارت مواصلات، این ایچ اے اور ایف ڈبلیو او پلوں اور شاہراہوں کی فوری مرمت یقینی بنائیں۔
اس کے علاوہ وزیرِ توانائی کو ہدایت دی گئی کہ وہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں اور توانائی کا نظام ترجیحی بنیادوں پر بحال کروائیں۔ اس کے علاوہ ہدایت کی گئی کہ وزارت صحت ڈاکٹرز کی ٹیمیں روانہ کرے اور طبی کیمپس قائم کرے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو متاثرین کی مدد کے لیے متحرک کیا جائے جبکہ وزارت خزانہ این ڈی ایم اے کو فوری وسائل فراہم کرے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں، پاک فوج اور دیگر اداروں کے تعاون سے اب تک 456 ریلیف کیمپس قائم کیے جا چکے ہیں اور 400 سے زائد ریسکیو آپریشن مکمل کیے گئے ہیں۔ امدادی اشیاء سے بھرے ٹرک متاثرہ علاقوں میں روانہ کیے جا چکے ہیں، اور سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
این ڈی ایم اے نے بتایا کہ اب تک 126 ملین روپے سے زائد کے سرکاری و نجی املاک کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ مزید راشن، خیمے، ادویات اور میڈیکل ٹیمیں روانہ کی جا رہی ہیں۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ مون سون سیزن ستمبر کے دوسرے ہفتے تک جاری رہے گا۔ اب تک چھ بڑے بارشوں کے اسپیل آ چکے ہیں جبکہ مزید دو اسپیل متوقع ہیں۔
اجلاس میں مختلف وزراء اور اداروں کے نمائندگان نے اپنی رپورٹس پیش کیں۔ وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے سوات، وزیرِ بجلی سردار اویس لغاری نے خیبر پختونخوا، معاون خصوصی مبارک زیب نے باجوڑ، چیئرمین این ایچ اے نے مالاکنڈ، جبکہ سیکریٹری مواصلات نے گلگت بلتستان کی صورتحال پر بریفنگ دی۔











