وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک سے آئرلینڈ کی سفیر میری او نیل کی ملاقات، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اختیار کردہ پالیسیوں، طریقۂ کار اور تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال

13

اسلام آباد۔9ستمبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک سے آئرلینڈ کی پاکستان میں پہلی سفیر میری او نیل نے ملاقات کی، ملاقات میں پاکستان اور آئرلینڈ کے درمیان موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اختیار کردہ پالیسیوں، طریقۂ کار اور تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ منگل کو وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق  یہ ملاقات  دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کی علامت ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر مصدق ملک نے بدلتے ہوئے عالمی رجحانات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دنیا کثیرالجہتی  سے دوطرفہ تعاون اور بعض پہلوئوں میں یکطرفہ اقدامات کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس تبدیلی کے باعث موسمیاتی تبدیلی کے لیے عالمی سطح پر ملنے والی مشترکہ معاونت میں کمی آئی ہے جس کے نتیجے میں ترقی پذیر ممالک کے لیے خودانحصاری کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔  انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان جیسے ممالک جو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات کا سامنا کر رہے ہیں، کے لیے خودانحصاری کا حصول ایک بڑا چیلنج ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی برادری مجموعی طور پر اور زیادہ تر ممالک انفرادی طور پر بھی اپنے ماحولیاتی اہداف کے حصول میں ناکام رہے ہیں۔ اس تناظر میں انہوں نے وزارت کی آئندہ دو پہلوئوں پر مبنی حکمت عملی کا ذکر کیا جس کا مقصد ان چیلنجز سے موثر طور پر نمٹنا ہے۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی روایتی اور غیر روایتی دونوں صلاحیتوں کو فروغ دینے پر کام کر رہی ہے جس کے تحت ادارہ جاتی اور تکنیکی استعداد میں اضافہ کر کے بین الاقوامی ماحولیاتی فنڈز تک موثر رسائی حاصل کی جائے گی۔ ایسے سبز منصوبے تیار کیے جائیں گے جو دیہی و پسماندہ طبقات کے لیے فائدہ مند ہوں جبکہ نوجوانوں کی قیادت میں قائم سبز سٹارٹ اپس کی معاونت کے ذریعے ماحول دوست اختراعات کو فروغ دے کر پائیدار ترقی میں ان کا فعال کردار یقینی بنایا جائے گا۔  میری او نیل نے پاکستان کی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ آئرلینڈ قابلِ تجدید توانائی، سبز اختراعات اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کے امکانات کو مزید آگے بڑھانے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔