اسلام آباد، 23 جولائی (اے پی پی): پولی کلینک کی میڈیکل اسپیشلسٹ ڈاکٹر ندا عباسی نے کہا ہے کہ مون سون کے موسم میں ٹائیفائیڈ، گیسٹرو اینٹرائٹس، ہیپاٹائٹس، ڈینگی اور ملیریا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ زیادہ تر مریض تیز بخار، پیٹ درد، الٹی، اسہال، جسم درد اور جوڑوں کے درد کی شکایات کے ساتھ ہسپتال آ رہے ہیں۔
اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولی کلینک کی او پی ڈی، ایمرجنسی اور وارڈز میں ان بیماریوں کے متعدد کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ مریضوں کی طبی تاریخ جانچنے پر معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر افراد نے غیر معیاری یا کھلی خوراک استعمال کی ہوتی ہے یا پھل اور سبزیاں مناسب طریقے سے دھوئے بغیر کھائی ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مریض عموماً 100 سے 103 ڈگری تک تیز بخار کے ساتھ ہسپتال آتے ہیں۔ تشخیص کے لیے ابتدائی طور پر خون کے مختلف ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں جبکہ انفیکشن کی نوعیت جاننے کے لیے مزید طبی معائنے بھی کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بخار کی مدت طویل ہو جائے تو بلڈ کلچر ٹیسٹ کروایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر ندا عباسی نے بتایا کہ ڈینگی اور ملیریا کے خدشے کے پیش نظر بخار کے مریضوں کی خصوصی جانچ کی جاتی ہے اور ضرورت کے مطابق ڈینگی سمیت دیگر متعلقہ ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنکھوں اور جلد میں زردی کی علامات ظاہر ہونے پر جگر کے ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ مون سون کے دوران صاف پانی استعمال کریں، کھانے سے پہلے ہاتھ اچھی طرح دھوئیں، کھلی اور غیر معیاری خوراک سے پرہیز کریں اور بخار یا دیگر علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر مستند طبی مرکز سے رجوع کریں۔











