اسلام آباد ،9ستمبر(اے پی پی):اسلام آباد میں صنفی برابری فریم ورک کےایک مشاورتی اجلاس سے بروز منگل خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ,اعظم نذیر تارڑنے کہا کہ موجودہ حالات مایوس کن ضرور ہیں لیکن انہیں بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نہ صرف اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے بلکہ ہر سطح پر صنفی برابری اور آبادی پر قابو پانے کے حوالے سے واضح کمٹمنٹ رکھتی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ فیملی پلاننگ اور آبادی کے مسئلے کو مؤثر انداز میں صوبائی سطح پر حل کرنے کی اشد ضرورت ہے، تاہم این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے میں موجود تضادات اس معاملے کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف صوبوں کو آبادی بڑھنے کی صورت میں زیادہ وسائل ملتے ہیں، جبکہ دوسری جانب آبادی میں اضافے پر قابو پانے کا مطالبہ بھی کیا جاتا ہے، جو ایک متضاد پالیسی ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ضروری ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن کے فارمولے کو از سرِ نو تشکیل دیا جائے تاکہ آبادی کو انعام دینے کے بجائے تعلیم، صحت، غربت کے خاتمے اور سماجی بہبود کے شعبوں میں کارکردگی کی بنیاد پر صوبوں کو وسائل فراہم کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ اگر سب ادارے اور اسٹیک ہولڈرز مل کر مربوط حکمت عملی اپنائیں تو زمینی حقائق میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج ضرور ہے، لیکن مشترکہ عزم و عمل کے ساتھ ہم اس صورتحال کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔اجلاس میں مختلف حکومتی اداروں، سماجی تنظیموں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے بھی شرکت کی۔ وزیر نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ رپورٹنگ میکنزم میں حقیقی زمینی حقائق کی جھلک دکھائی دینی چاہیے تاکہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر اپنے عزم اور عملی اقدامات کو مؤثر انداز میں پیش کر سکے.











