پاکستان نے سلامتی کونسل سے امن سازی  کے عمل کو دوبارہ فعال بنانے پر زور دیا

22

اقوام متحدہ، 10ستمبر(اے پی پی): امن سازی کا نظام گھٹتے وسائل اور کمزور ہوتی ساکھ کے بحران سے دوچار ہے۔ پاکستان نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اقدام کرے تاکہ کثیرالجہتی کے اس مؤثر ترین ہتھیار کو ناکامی سے بچایا جا سکے۔

سلامتی کونسل میں امن کارروائیوں کے مستقبل پر کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب،سفیر عاصم افتخار احمد نے امن قائم رکھنے کو “اقوام متحدہ کی سب سے بڑی کامیابی کی کہانی” قرار دیا، لیکن ساتھ ہی کہا کہ آج یہ ادارہ بھی اقوام متحدہ کی طرح “محاصرے” میں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وسائل میں کمی اور محدود ہوتی موجودگی کے باعث امن مشنز “سیاسی غفلت اور جغرافیائی سیاست کا شکار” ہو سکتے ہیں۔

سفیر عاصم نے کہا کہ امن قائم رکھنے کا عمل اب اپنی ساکھ کھو رہا ہے،اور یہ ایک خطرناک تضاد کی زد میں ہے،تنازعات بڑھ رہے ہیں،لیکن اقوام متحدہ کا ردعمل سکڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2014 کے بعد سے کوئی نیا مشن تعینات نہیں ہوا؛ کئی بند یا کم کر دیے گئے ہیں؛ اور جو باقی ہیں وہ مالی اور عملی رکاوٹوں کا شکار ہیں جو ان کے مینڈیٹ کی تکمیل کو خطرے میں ڈالتی ہیں، یہ ایک ایسا تضاد ہے جس کی دنیا متحمل نہیں ہو سکتی۔