بی ڈو نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم پاکستان کی معیشت، روزگار اور عالمی تعاون میں ایک انقلابی کردار ادا کر رہا ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال

16

اسلام آباد، 24 ستمبر )اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے ہونان میں بی ڈو سمٹ میں شرکت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی ڈو نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم پاکستان کی معیشت، روزگار اور عالمی تعاون میں ایک انقلابی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بی ڈو استعمال کرنے والا دنیا کا پہلا غیر ملکی ملک تھا اور اس ٹیکنالوجی کے ذریعے تجارت، سی پیک، ڈیجیٹل معیشت، ہوابازی اور میری ٹائم سیفٹی میں بے شمار مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

سمٹ کے دوران وزیر منصوبہ بندی نے چین کے نائب وزیر اعظم لی چھیانگ سے بھی ملاقات کی اور باہمی تعاون بڑھانے پر گفتگو کی۔ احسن اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ بی ڈو کا استعمال زراعت، ہوابازی، لاجسٹکس اور آفات کے دوران ریسکیو و مواصلات میں انتہائی سودمند ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی ترقی کے لیے چھ نکاتی فارمولا پیش کیا، جس میں بی ڈو کو پاک-ایس بی اے ایس اور پاک-جی بی اے ایس کے ساتھ مربوط کرنے، ملک بھر میں جی بی اے ایس کوریج کو وسعت دینے، نیشنل سینٹر برائے جی آئی ایس و سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کو بی ڈو کا ریجنل سینٹر آف ایکسیلنس بنانے اور قومی “پوزیشننگ، نیویگیشن اینڈ ٹائمنگ (PNT) پالیسی” اپنانے کی تجاویز شامل تھیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ مقامی نیویگیشن انڈسٹری کے فروغ کے لیے چین کے ساتھ پبلک-پرائیویٹ پارٹنرشپ بڑھائی جائے گی جبکہ نئی نسل کے سائنسدانوں کی تیاری کے لیے مشترکہ تحقیق، تربیت اور ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی ڈو اور پاکستانی نظام کا امتزاج تجارت، بندرگاہوں اور ڈیجیٹل راہداریوں میں نئی جان ڈالے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک اب صرف سڑکوں اور پلوں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ سپیس ٹیکنالوجی سے جڑا ایک جدید ٹیکنالوجی کوریڈور ہے۔ ان کے مطابق بی ڈو کے ذریعے پاکستان اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کو حقیقت بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ “اڑان پاکستان” کے تحت ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھی جا رہی ہے اور نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔