نیویارک ، 27 ستمبر ( اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے فوراً بعد ملک میں حالیہ سیلابی صورتحال، امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے اقدامات پر اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس کی ویڈیو لنک کے ذریعے صدارت کی۔
اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ وہ سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ریلیف اور بحالی کی کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ متاثرہ افراد کو جلد از جلد ان کے گھروں میں آباد کیا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے دنیا کو موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے آگاہ کیا، جس کی وجہ سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک بار بار قدرتی آفات کی زد میں آ رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس چیلنج سے نمٹنے میں پاکستان کی مدد کرے۔
وزیراعظم نے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کو امدادی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ باقاعدگی سے جائزہ اجلاس منعقد کیے جائیں تاکہ کارکردگی پر نظر رکھی جا سکے۔ انہوں نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو بھی ہدایت کی کہ وہ صوبوں اور ضلعی سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ مکمل تعاون کو یقینی بنائیں۔
وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ بحالی اور امداد کے لیے جامع منصوبہ بندی ممکن بنائی جا سکے۔وزیراعظم نے خصوصی طور پر موٹروے M-5 پر دریائے ستلج کے سیلاب سے متاثرہ حصے کی فوری مرمت کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے جلال پور پیر والا کے مقام پر پڑنے والے شگاف کو فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا اور سیکریٹری مواصلات اور چیئرمین این ایچ اے کو ہدایت کی کہ وہ موقع پر جا کر نقصان کا جائزہ لیں اور رپورٹ پیش کریں۔وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ متاثرہ علاقوں میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں اور وہاں موزوں فصلوں کی کاشت کو یقینی بنانے کے لیے زرعی ماہرین کی مشاورت سے خاص منصوبے بنائے جائیں۔
اجلاس کے دوران چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ اب تک تقریباً ساڑھے تین لاکھ متاثرہ افرادامدادی کیمپس اور خیمہ بستیوں سے واپس اپنے گھروں کو جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ کے چند علاقوں میں اب بھی کچھ کیمپس قائم ہیں تاہم سیلابی پانی کے اترنے کے بعد وہاں سے بھی متاثرین کی واپسی کا عمل جلد مکمل ہو جائے گا۔
اجلاس میں حکومت پنجاب کی جانب سے بحالی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا گیا اور فصلوں کے نقصانات کے ازالے اور کسانوں کی بحالی سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔وزیراعظم نے اجلاس کے اختتام پر ہدایت کی کہ آئندہ ایک ہفتے میں نقصانات کا جامع تخمینہ لگا کر ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے تاکہ متاثرین کی بحالی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر نو میں تاخیر نہ ہو۔











