اسلام آباد ،29ستمبر(اے پی پی): قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکرسردار ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایوان کو آگاہ کیا گیا کہ کہ پاک فوج میں خواتین کی بھرتی کے لیے اسی فیصد فیلڈز کھلی ہیں۔آج ایوان میں وقفہ سوالات کے دوران ایک سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع زیب جعفر نے مزید کہا کہ پاک فوج میں پانچ ہزار سے زائد خواتین خدمات سرانجام دے رہی ہیں اور گزشتہ تین سالوں میں سات سو کے قریب خواتین کو کمیشن دیا گیا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے انتہائی جسمانی برداشت اور طویل عرصے تک مخاصمانہ ماحول میں رہنے والے شعبے بند ہیں۔پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ پاک فوج میں خواتین کے کیرئیر کی ترقی ایک وقف کیرئیر مینجمنٹ پالیسی کے تحت چلتی ہے۔ جس میں فوج میں اپنی سروس کے دوران خواتین کی ترقی اور تربیت کے لیے جامع اور خصوصی پروگرام شامل ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں زیب جعفر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے قومی فلیگ کیریئر کی تنظیم نو کے نتیجے میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے گزشتہ سال نو ارب تین کروڑ روپے کا آپریٹنگ منافع اور چھبیس ارب روپے کا خالص منافع کمایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے مشرق وسطیٰ اور کوالالمپور، باکو اور استنبول سمیت نئی منزلوں تک اپنے آپریشنز کو بڑھا رہی ہے۔اس سے قبل پی ٹی آئی کے بانی کی جانب سے سینئر صحافی اعجاز احمد کو ہراساں کیے جانے کے خلاف پارلیمانی رپورٹرز نے قومی اسمبلی کی پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا۔میڈیا کے واک آؤٹ پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ شائستگی اور رواداری سیاست کی پہچان ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ سابق وزیراعظم کی جانب سے سینئر صحافی اعجاز احمد کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سینئر صحافی پی ٹی آئی کے بانی سے متعلق کیس میں اڈیالہ جیل میں جاری عدالتی کارروائی کی کوریج کے لیے اپنے پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ سوشل میڈیا پر صحافی کی ٹرولنگ جاری ہے۔وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ سیاست دانوں کو تنقید کا سامنا کرنے اور باوقار انداز میں جواب دینے کی ضرورت ہے۔قومی اسمبلی کا اجلاس بروز منگل دن 11 بجے تک کے لئے ملتوئ کر دیا گیا ہے۔











