اسلام آباد، 30 ستمبر (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پاکستان سائن لینگویج (PSL) کی معیار بندی کے عمل کو سماعت سے محروم پاکستانیوں کی پہچان اور شمولیت یقینی بنانے کی سمت تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔ وہ آج پاکستان سائن لینگویج سے متعلق قومی مشاورت سے خطاب کر رہے تھے۔
مشاورت میں معزز مہمانوں، صوبائی نمائندوں، ماہرینِ تعلیم، سول سوسائٹی، یونیسف، میڈیا اور سماعت سے محروم کمیونٹی کے اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ PSL کی معیاری شکل نہ ہونے کے باعث طویل عرصے تک سماعت سے محروم شہری تعلیم، روزگار، انصاف اور عوامی خدمات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرتے رہے۔ معیاری فریم ورک مستقبل میں یکساں نصاب، مترجمین کی تصدیق اور سرکاری و نجی اداروں میں یکساں استعمال کو یقینی بنائے گا۔
وفاقی وزیر نے وزارت کی ٹیم، یونیسف اور سماعت سے محروم رہنماؤں کو خلوص اور ملکیت کے ساتھ اس عمل کو آگے بڑھانے پر سراہا۔ انہوں نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف اسپیشل ایجوکیشن (DGSE) میں جاری اصلاحات کو اجاگر کیا جو جولائی 2024 سے وزارت کے انتظامی کنٹرول میں ہیں۔ ان اصلاحات میں خصوصی بچوں کے لیے متوازن غذائی پروگرام، 300 سے زائد نئے داخلے، خصوصی اساتذہ کی تربیت، آٹزم سپورٹ سہولیات، بحالی مراکز کی جدید کاری، ڈیجیٹل بولنے والی کتابوں کی فراہمی، فنی تربیتی منصوبے، کمیونٹی آؤٹ ریچ کیمپ اور ہیومن ریسورس پالیسی میں اصلاحات شامل ہیں۔
ان کامیابیوں میں PSL کی معیار بندی کو وزارت کا فلیگ شپ اقدام قرار دیا گیا۔ اس مقصد کے لیے ایک قومی ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کیا گیا جو مترجمین کی تربیت، ڈیجیٹل وسائل اور واضح ٹائم لائنز کے ساتھ سفارشات پر عملدرآمد کرے گی۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ PSL کو اسکولوں کے نصاب، میڈیا پلیٹ فارمز اور عوامی خدمات میں شامل کیا جائے گا تاکہ یہ شمولیت اور مساوات کی زبان کے طور پر تسلیم ہو۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایسا پاکستان تشکیل دیا جائے گا جہاں ہر بچہ اور ہر شہری، خواہ سننے والا ہو یا سماعت سے محروم، اپنی زبان، شناخت اور بہتر مستقبل کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔











