وزیراعظم آزادجموں و کشمیر اور وفاقی حکومت کی عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو پھر مذاکرات کی دعوت

11

اسلام آباد، یکم اکتوبر )اے پی پی):آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوارالحق اور وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی دعوت دے دی ۔

جموں کشمیر ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم چوہدری انوارالحق اور وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ تشدد سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے عوامی ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران سے کہتے ہیں کہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں ۔ وزیراعظم  نے کہا کہ حقوق کیلئے مہذب طریقہ مذاکرات ہے جس طرح وفاقی حکومت کی جانب سے مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے میں بھی عوامی ایکشن کمیٹی سے کہوں گا کہ مذاکرات کی میز پر آئیں ۔

انھوں نے کہا کہ پرتشدد احتجاج افراتفری کا باعث بنے گا ، آپ کو مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں ۔انسانی جانوں کے ضیاع پر شدید دکھ اور تکلیف ہے،انسانوں جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں ہے  ۔پولیس کے تین بہادر جوان شہید ہوئے اور 100 سے زیادہ زخمی ہیں ، عوامی ایکشن کمیٹی کے ذمہ دار لوگ اس احتجاج کو ختم کریں اور مذاکرات پر آئیں تشدد اور افراتفری سے کچھ حاصل نہ ہوگا ،اس سے مقصد حاصل نہیں ہوتا ۔پھر سے درخواست ہے جہاں سے مذاکرات کا عمل ٹوٹا ہے وہیں سے شروع کریں عوامی ایکشن کمیٹی جہاں بات کرنا چاہتی ہے ریاستی حکومت تیار ہے مظفرآباد ،راولاکوٹ اور میرپور میں میرے وزراء موجود ہے ۔حکومت مذاکرات کیلئے تیار ہے ۔

 وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت آزادکشمیر  سے رابطے میں تھے ، وزیراعظم پاکستان نے میری ڈیوٹی لگائی کہ مسائل حل کئے جائیں ، ہم نے مظفرآباد میں وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان کےہمراہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران سے بات چیت کی ۔90 فیصد مطالبات تسلیم کر لیے گئے دونوں وفاقی وزراء گارنٹر تھے کہ ان پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا ۔ پچھلے احتجاج کے مقدمات کینسل کرانے کیلئے آئی جی کو کہا گیا ،بجلی کے حوالے سے ایشوز مانے ،لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے مطالبے مانے ۔ایک معاہدہ لکھا گیا جس میں عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران نے درستگی بھی کی اور ان کی تسلی کے مطابق معاہدہ لکھا گیا ، پھر دو مطالبات جموں و کشمیر کی مہاجرین کی نشستیں ختم کرنااور وزراء کی تعداد میں کمی پر  کہا گیا کہ یہ قانون ساز اسمبلی کا اختیار ہے ۔