ہیلتھ سیکٹر میں بڑی پیش رفت: 10 ملین ڈالر سے جدید ادویات کی تیاری کا منصوبہ

11

 

اسلام آباد، 10 اکتوبر (اے پی پی):چینی اور جرمن دواساز کمپنیوں کے سربراہان نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں مقامی ادویات سازی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور برآمدات کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

جرمن دواساز کمپنی کے نمائندوں نے وزیر صحت کو ذیابیطس کے علاج سے متعلق جاری منصوبوں پر بریفنگ دی اور پاکستان کے ہیلتھ سیکٹر سے طویل المدتی وابستگی کے عزم کا اعادہ کیا۔

چینی دواساز کمپنی کے نمائندوں نے پاکستان میں جدید پیداواری سہولت قائم کرنے کے منصوبے سے آگاہ کیا اور تحقیقی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ منصوبے کے مطابق پری فِلڈ سرنجز، سیمی گلوٹائیڈ گولیاں اور GLP-1 انجیکشنز کی مقامی سطح پر تیاری کی جائے گی۔

ابتدائی طور پر 10 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری سے جدید دواساز مینوفیکچرنگ سہولت قائم کی جائے گی۔ وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تعاون صرف سرمایہ کاری تک محدود نہیں رہے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا اور برآمدی صلاحیت میں بھی اضافہ کرے گا۔وزیر صحت نے دونوں کمپنیوں کو مرحلہ وار سرمایہ کاری اور منصوبوں کے نفاذ کے لیے تفصیلی روڈمیپ پیش کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام ریگولیٹری تقاضوں کو بروقت یقینی بنائے گی۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کو درآمدی دواساز معیشت سے نکال کر ایک خودکفیل اور برآمدی دواساز معیشت میں تبدیل کرنا حکومت کا ہدف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔