اقوامِ متحدہ، 14 اکتوبر ( اے پی پی): سلامتی کونسل کے اجلاس سے گریٹ لیکس خطے کی صورتحال پر خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پائیدار امن کا واحد راستہ ایک مربوط، قانون پر مبنی اور افریقی قیادت میں چلنے والا سیاسی عمل ہے۔ مشرقی کانگو میں مسلسل بڑھتی بدامنی کی موجودہ صورتحال ’’ایک نازک موڑ‘‘ پر کھڑی ہے۔
خصوصی ایلچی ہوانگ شیا کے مینڈیٹ کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کثیرالجہتی اور افریقی قیادت میں کی جانے والی کوششوں کو مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ “AFC/M23 کی پیش قدمی اور ADF حملوں میں اضافے” نے انسانی المیے کو مزید سنگین بنا دیا ہے اور خطے میں کشیدگی کو دوبارہ بھڑکانے کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطہ ایک فیصلہ کن مرحلے پر ہے، اور خودمختاری کی سنگین خلاف ورزیاں علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ انہوں نے ضبط و تحمل اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہو سکتا۔انہوں نے “فوری اور غیر مشروط جنگ بندی” کا مطالبہ کیا اور قرار داد 2773 پر مخلصانہ عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام مسلح گروہ، بالخصوص M23، ” فوراً دشمنی ختم کریں، غیر قانونی طور پر قابض علاقوں سے دستبردار ہوں، متوازی ڈھانچے تحلیل کریں اور عمل میں سنجیدگی سے شریک ہوں۔“
انہوں نے زور دے کر کہا کہ “جمہوریہ کانگو کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔”
نئی سفارتی پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے سفیر عاصم نے اسے “امن کے لیے ایک نازک مگر حقیقی موقع” قرار دیا۔ پاکستان نے امریکہ کی سرپرستی میں ہونے والے کانگو-رونڈا معاہدے، قطر کی ثالثی میں طے پانے والے دوحہ اعلامیے، اور افریقی قیادت میں لوانڈا اور نیروبی ٹریکس کے انضمام کو سراہا۔
اپنی تقریر کے اختتام پر انہوں نے افریقی قیادت میں اور اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ تمام کوششوں کے لیے پاکستان کی پختہ حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے تمام فریقوں سے بامقصد اور سنجیدہ عزم کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی، کیونکہ یہ گریٹ لیکس خطے میں دیرپا امن کے حصول کے لیے اب بھی امید کی ایک کرن باقی ہے۔











