اقوامِ متحدہ، 14 ستمبر (اے پی پی): استعماری خاتمےسے متعلق چوتھی کمیٹی کے اجلاس میں وزیر آصف خان نے بھارت کے نمائندے کی جانب سے پھیلائی گئی گمراہ کن اور بے بنیاد باتوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہر سال بھارت اس معزز فورم پر جھوٹ اور تحریفات سے بھری ہوئی ایک پرانی اسکرپٹ کے ساتھ آتا ہے، آج بھی اس اسکرپٹ میں کوئی فرق نہیں آیا۔
آصف خان نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کو نہ صرف یہ حق حاصل ہے بلکہ یہ اس کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے تنازعے پر غور کرے۔ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے، اور نہ کبھی رہا ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے جس کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی متعدد سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق، آزادانہ اور غیر جانب دارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے ہونا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت نے دنیا کی سب سے بڑی فوجی موجودگی قائم کر رکھی ہے، جہاں تقریباً 9 لاکھ فوجی نہتے شہریوں کے خلاف تعینات ہیں۔
بھارت کا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں سے روگردانی، کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنا، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، اجتماعی گرفتاریاں، جنسی تشدد، اور آبادیاتی انجینئرنگ جیسے اقدامات ہی اس آزادی کی مقامی تحریک کے اصل اسباب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگست 2019ء سے بھارت نے چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئےاپنے نوآبادیاتی منصوبے کو تیز کر دیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کے انکار اور تحریفات حقیقت کو مٹا نہیں سکتیں: جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے۔ کشمیری عوام سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اپنے اقوامِ متحدہ کی ضمانت یافتہ حقِ خود ارادیت کے انتظار میں ہیں۔ پاکستان بھارت کی منافقت کو بے نقاب کرتا رہے گا، اس کی ریاستی دہشت گردی کی مخالفت کرے گا، اور کشمیری عوام کی منصفانہ، جائز اور پرامن جدوجہدِ آزادی کی حمایت جاری رکھے گا۔











