پاکستان کے زیتون کے شعبے میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت یہ شعبہ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، رانا تنویر حسین

6

اسلام آباد، 21 اکتوبر  (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کے زیتون کے شعبے میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت یہ شعبہ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

البراکہ پاکستان اولیو سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس سمٹ کو زراعت کے فروغ اور پائیدار ترقی کے لیے ایک مثبت قدم  قرار دیا اور کہا کہ ماہرین، کسانوں، صنعتکاروں اور ترقیاتی شراکت داروں کی شرکت اس بات کا مظہر ہے کہ زیتون کی کاشت کے فروغ میں دلچسپی اور عزم بڑھ رہا ہے۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان کے پاس زمین، موسم اور وسائل موجود ہیں جن کی مدد سے زیتون کی کاشت کو کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیتون کے تیل کی درآمد پر انحصار کم کرنے اور خودکفالت کے حصول کے لیے جدید طریقۂ کاشت، تحقیق اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس سال کی سمٹ کا موضوع ‘‘محفوظ، پائیدار اور برآمد کے لیے تیار’’  وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ اسی سمت میں پیش رفت سے پاکستان کا زیتون شعبہ عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار کاشت کاری اور غذائی تحفظ نہ صرف معیشت کے لیے بلکہ ماحول اور عوامی صحت کے لیے بھی ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق زیتون کے شعبے کی ترقی کے لیے پرعزم ہے اور ایسے اقدامات کی مکمل حمایت کر رہی ہے جو اختراع، تربیت، مارکیٹ تک رسائی اور مقامی کاروبار کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے جہاں زیتون کی کاشت، پراسیسنگ اور برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سمٹ زیتون کے شعبے میں نئے خیالات، مضبوط شراکت داریوں اور قابلِ عمل تجاویز کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگی۔

اختتام پر انہوں نے نیشنل الائنس فار سیف فوڈ کی کاوشوں کو سراہا اور یقین دلایا کہ حکومت زیتون کی صنعت کے فروغ اور پاکستان کو عالمی مارکیٹ میں نمایاں مقام دلانے کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔