اسلام آباد، 22 اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ لوگ پہلے بیمار ہوں اور پھر ہمارے پاس آئیں، اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے، اگر کسی کو ایسی بیماری لاحق ہو جائے جس کا علاج ممکن نہ ہو تو وہ زندگی ضائع ہو جاتی ہے، ہمارا مقصد ابتدا سے یہی رہا ہے کہ بیماری سے پہلے بچاؤ کیا جائے، کیوں کہ صحت کا اصل مفہوم علاج نہیں بلکہ احتیاط ہے۔
چھاتی کے سرطان سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزارتِ صحت پاکستان کا مشن ہے کہ ہر فرد کو بیماری سے بچایا جا سکے، اس مقصد کے تحت قائم سکرینگ مرکز خواتین میں پائی جانے والی جھجھک کو ختم کرنے کیلئے ایک اہم قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اکثر مائیں، بہنیں اور بیٹیاں خاموش رہتی ہیں جب تک بیماری آخری درجے میں نہ پہنچ جائے، اور پھر جب بات ہاتھ سے نکل جائے تب علاج کا سوچا جاتا ہے، یہ مرکز اسی شعور کو بیدار کرنے کی ایک کوشش ہے۔وزیرِ صحت نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال ڈیڑھ لاکھ مائیں، بہنیں اور بیٹیاں زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں، اس المیے کو روکنے کیلئے ضروری ہے کہ کینسر کی اسکریننگ مراکز کو ضلعی، تحصیلی اور یونین کونسل کی سطح تک بڑھایا جائے تاکہ ہر خاتون بلا جھجک اپنی جانچ کرا سکے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کیلئے دوستانہ ماحول فراہم کیا جائے، وہاں خواتین ڈاکٹرز اور عملہ موجود ہو تاکہ ہماری مائیں اور بہنیں بلا خوف و تردد اپنی اسکریننگ کرا سکیں۔
اے پی پی /سہیل/نورین











