اسلام آباد، 23 اکتوبر (اے پی پی): نوری ہسپتال اسلام آباد کی چیف آنکالوجسٹ اور ڈائریکٹر ڈاکٹر حمیرا محمود نے کہا ہے کہ پاکستان میں خواتین میں چھاتی کے سرطان کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کی جلد تشخیص اور بروقت علاج کے ذریعے اس مرض کو مکمل طور پر قابو میں لایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے جمعرات کو اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خواتین میں چھاتی کا سرطان سب سے زیادہ عام بیماری بن چکا ہے جس کی شرح پینتالیس فیصد سے زائد ہے۔ کینسر اگر ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو جائے تو اس کا علاج نہ صرف ممکن ہے بلکہ مریضہ مکمل صحت یاب بھی ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر حمیرا محمود نے کہا کہ خواتین کو اپنی صحت کے بارے میں زیادہ باشعور ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں خواتین عموماً اپنی صحت کو پس منظر میں رکھتی ہیں اور خاندان کو ترجیح دیتی ہیں۔ جسم میں کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں فوری طور پر ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ بروقت تشخیص ممکن ہو سکے۔
انہوں نے بتایا کہ چھاتی میں گلٹی کا نمودار ہونا عام علامت ہے تاہم تمام گلٹیاں کینسر نہیں ہوتیں اس لیے میڈیکل معائنہ لازمی ہے۔ ان کے مطابق چالیس سال سے زیادہ عمر کی خواتین کو سال میں کم از کم ایک بار میموگرام ضرور کروانا چاہیے کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر کیسز اسی عمر کے بعد سامنے آتے ہیں۔
ڈاکٹر حمیرا نے وضاحت کی کہ میموگرام میں استعمال ہونے والی شعاعوں کی مقدار انتہائی کم ہوتی ہے اور یہ طریقہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر کی آگاہی مہم کا مقصد خواتین کو چھاتی کے سرطان کی بروقت تشخیص اور علاج کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مردوں میں بھی چھاتی کے سرطان کے کیسز ایک فیصد سے کم ہیں تاہم آگاہی کی کمی کے باعث یہ بیماری اکثر تاخیر سے تشخیص ہوتی ہے۔ خواتین کے لیے گلابی جبکہ مردوں کے لیے نیلا رنگ بریسٹ کینسر آگاہی کی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔











