آٹو انڈسٹری سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس

8

اسلام آباد، 30 اکتوبر(اے پی پی ): فاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت آٹو انڈسٹری سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں پی اے اے پی اے ایم اور پی اے ایم اے کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں آٹو پالیسی، استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد، اور انڈسٹری کے فروغ سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ جام کمال خان نے کہا کہ پری شپمنٹ اور پوسٹ شپمنٹ انسپیکشن کے نظام سے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں بدعنوانی کم ہوگی اور شفافیت کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے بتایا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی اسکیموں میں ترامیم پر کام جاری ہے تاکہ اوورسیز پاکستانیوں کو سہولت دی جا سکے اور اس عمل کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ کمرشل استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہے جو بتدریج کم کی جائے گی۔

اجلاس میں بیگیج، گفٹ اور ٹرانسفر آف ریذیڈنس اسکیموں میں یکسانیت لانے کی تجویز پر بھی مشاورت ہوئی۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ وزارتِ تجارت اور وزارتِ صنعت کے درمیان قریبی رابطہ ضروری ہے تاکہ آٹو سیکٹر کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔

وفود نے لوکلائزیشن، وینڈر ڈیولپمنٹ اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔

جام کمال خان نے کہا کہ حکومت درآمدات کے غلط استعمال پر قابو پاتے ہوئے مقامی مینوفیکچرنگ اور عالمی مسابقت کو فروغ دینا چاہتی ہے۔