سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس

12

اسلام آباد،30اکتوبر (اے پی پی ):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔کمیٹی کو پی آئی اے کی نجکاری، روزویلٹ ہوٹل اور ملک کے نمایاں ایئرپورٹس سے متعلق تازہ ترین پیش رفت اور پریسژن انجینئرنگ کمپلیکس کی پاکستان ایئر فورس کو منتقلی پر بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس میں چیئرمین کمیٹی نے سینیٹر بلال احمد خان اور سینیٹر اسد قاسم کو خوش آمدید کہا۔پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (پی آئی اے ایچ سی ایل) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کمیٹی کو پریسژن انجینئرنگ کمپلیکس (پی ای سی) کی پاکستان ایئر فورس کو منتقلی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ پریسژن انجینئرنگ کمپلیکس دفاعی نوعیت کا ادارہ ہے جس میں 223 ملازمین کام کر رہے ہیں جبکہ 381 ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات بھی شامل ہیں۔ یہ کمپلیکس 200 ایکڑ رقبے پر محیط ہے۔ 1980ء کی دہائی سے یہ ادارہ بوئنگ طیاروں کے پرزہ جات کی تیاری کے ساتھ ساتھ دفاعی سازوسامان کی تیاری میں بھی مصروف رہا ہے۔چیئرمین کمیٹی کےاستفسار پر نجکاری کمیشن کے سیکریٹری نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کے دوران کمپلیکس کی آمدنی 397 ملین روپے رہی جبکہ اخراجات 850 ملین روپے سے تجاوز کر گئے۔ کابینہ کے یکم مئی کے فیصلے کے مطابق پریسژن انجینئرنگ کمپلیکس کی ملکیت تمام اثاثوں اور واجبات سمیت پاکستان ایئر فورس کو منتقل کی جائے گی۔ سیکریٹری نجکاری کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ پی آئی اے سی ایل کی نجکاری کا عمل دوسری کوشش کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ حکومت اور متعلقہ فریقین کے درمیان شرائط و ضوابط پر مشاورت جاری ہے۔ چار کنسورشیمز/بولی دہندگان نے نجکاری کے عمل میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ تمام فریقین پی آئی اے سی ایل کے اثاثوں اور واجبات کا جائزہ لے رہے ہیں اور متفقہ فیصلے کے بعد پی آئی اے سی ایل کی نجکاری رواں سال کے اختتام تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔کمیٹی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں کسی بڑی بین الاقوامی ایئرلائن نے حصہ نہیں لیا۔ سیکریٹری نجکاری کمیشن نے وضاحت کی کہ اگرچہ نجکاری کا موقع علاقائی سطح پر پیش کیا گیا، لیکن علاقائی ایئرلائنز اپنے ممکنہ حریف میں سرمایہ کاری سے گریزاں رہیں۔کمیٹی نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی لینڈ سائیڈ سروسز کی آؤٹ سورسنگ کے بارے میں بھی استفسار کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایک ترک کمپنی نے ابتدائی طور پر دلچسپی ظاہر کی تھی لیکن سرکاری و نجی فریقین کے منافع کے فیصد کے معاملے پر اختلاف کے باعث وہ دستبردار ہو گئی۔ مزید بتایا گیا کہ اس حوالے سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) کی بنیاد پر معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔چیئرمین کمیٹی نے سفارش کی کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی لینڈ سائیڈ سروسز کو کسی مستند بین الاقوامی کمپنی کے سپرد کیا جائے جو بین الاقوامی معیار کے مطابق بہترین انتظامات اور سہولیات فراہم کر سکے۔روزویلٹ ہوٹل نیویارک سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ مالیاتی و ریئل اسٹیٹ مشاورتی ادارے “جے ایل ایل” (جے ایل ایل) نے ہوٹل کی ڈیو ڈیلیجنس مکمل کر لی تھی۔ یہ پراپرٹی 6,50,000 مربع فٹ پر مشتمل ہے جس میں 17 منزلہ عمارت شامل ہے۔ ادارے نے حکومت پاکستان کے لیے مشترکہ منصوبے (Joint Venture) کی تجویز دی تھی جس میں متعدد ایکزٹ آپشنز شامل تھے۔ یہ تجویز 8 جولائی کو وفاقی کابینہ سے منظور ہو چکی ہے تاہم مشاورتی ادارہ مفادات کے ٹکراؤکے باعث منصوبے سے علیحدہ ہو گیا۔ اب حکومت پاکستان اس عمل کو جاری رکھنے کے لیے ایک نیا مالیاتی مشاورتی ادارہ بھرتی کرنے کے عمل میں ہے۔چیئرمین کمیٹی نے فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ (ایف ڈبلیو بی ایل) کی کامیاب نجکاری کو سراہا جو متحدہ عرب امارات کی انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی (آئی ایچ سی) نے اس کے تمام اثاثوں، واجبات اور ملازمین سمیت حاصل کیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ پی آئی اے سی ایل کے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن سے متعلق تمام زیر التواء شکایات کو جلد از جلد حل کیا جائے۔