استنبول، 4 نومبر(اے پی پی): وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے تحت 41ویں کامسیک اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ اجلاس میں جام کمال خان نے ایشیا گروپ کی جانب سے مشترکہ بیان پیش کرتے ہوئے مسلم ممالک کے درمیان مضبوط معاشی تعاون، ڈیجیٹل انضمام اور پائیدار ترقی کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیرِ تجارت نے کہا کہ او آئی سی ممالک کو غیر ٹیرف رکاوٹیں کم کرنی چاہییں اور کسٹم کے عمل کو آسان بنانا چاہیے تاکہ حقیقی تجارتی آزادی حاصل ہو سکے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ رکن ممالک سرمایہ کاری کے فروغ اور نجی شعبے کے اشتراک سے روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں۔
جام کمال خان نے ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس اور فِن ٹیک کے فروغ کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے او آئی سی کے تحت ’’گرین فنانس میکنزم‘‘ کے قیام کی بھی تجویز دی۔
مشترکہ بیان میں اسلامی ممالک کے درمیان ڈیجیٹل تبدیلی اور معاشی تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا، جبکہ ایشیا گروپ نے 2025 تک او آئی سی کے اندر 25 فیصد تجارتی ہدف کے حصول کی حمایت کی۔ جام کمال خان نے کہا کہ مسلم امہ کو ڈیجیٹل انقلاب میں کسی ملک کو پیچھے نہیں چھوڑنا چاہیے اور ڈیجیٹل یکجہتی و مشترکہ خوشحالی کے عزم کا اعادہ کیا۔











