اسلام آباد،05نومبر (اے پی پی):اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ (آئی آر آئی بی) کے اعلیٰ سطح کے وفد نے بدھ کے روز ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے صدر دفتر کا دورہ کیا اور خبروں کے تبادلے سے متعلق باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وفد میں اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ کے نائب صدر و عالمی سروس کے سربراہ احمد نوروزی، ڈائریکٹر جنرل عالمی امور، آئی آر آئی بی، عباس محمد نژاد اور دیگر نمائندگان شامل تھے۔
منیجنگ ڈائریکٹر،اے پی پی ، محمد عاصم کھچی نے وفد کو سرکاری خبر رساں ایجنسی کے امور کار، ملک بھر میں موجود بیوروز، سٹیشنز، ضلعی نامہ نگاروں اور خبروں کی ترسیل کے بارے میں بریفنگ دی اور بتایا کہ اے پی پی انگریزی، اردو، عربی، چینی، سندھی، بلوچی، پشتو، اور سرائیکی سمیت مختلف زبانوں میں سروسز فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا، رپورٹنگ، فیچر سروس، سفارتی و عالمی خبروں اور ویڈیو نیوز سروس سمیت مختلف خدمات کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انھوں نے بتایا کہ 45 سے زائد بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کے ساتھ اے پی پی کے خبروں کے تبادلے کے معاہدے ہیں۔ ایم ڈی اے پی پی نے وفد کو ایرانی نیوز ایجنسی( ارنا) کے ساتھ خبروں کے باہمی تبادلے سے بھی آگاہ کیا۔انھوں نے آئی آر آئی بی کے ساتھ معاہدہ کے لیے تفصیلی تجویز کی فراہمی پر زور دیا۔انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ہم میڈیا کے شعبے میں ایک دوسرے کے تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
نائب صدراحمد نوروزی نے کہا کہ آئی آر آئی بی، ایران کا اہم ستون اور میڈیا تنظیم ہے۔ انھوں نے بتایا کہ آئی آر آئی بی کے تحت 100 سے زائد چینلز ،دو نیوز ایجنسیز اور دیگر میڈیا ادارے کام کر رہے ہیں۔ خبروں کے تبادلے سے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان موجودہ دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ صحافیوں کےتربیتی پروگراموں سے باہمی روابط مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ علی محمدی نافچی نے کہا کہ آئی آر آئی بی اوراے پی پی کے درمیان خبروں کا تبادلہ دونوں ممالک کے لوگوں کو جوڑ دے گا۔ عباس محمد نژاد نے کہا کہ ایرانی عوام اعلیٰ معیار کی خبروں کی کوریج، تصویروں اور سماجی اور سیاسی مسائل کی براہ راست نشریات میں دلچسپی لیتے ہیں۔ بعد ازاں وفد نے اے پی پی کے مختلف سیکشنز بشمول اسٹوڈیوز اور ڈیٹا سینٹر کا دورہ کیا۔











