حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں بہتری لانا ناگزیر ہے، سید مصطفیٰ کمال

10

اسلام آباد، 07 نومبر (اے پی پی): وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملک میں بچوں کی ویکسینیشن کی صورتحال تشویش ناک ہے اور لاکھوں بچے اب بھی حفاظتی ٹیکوں سے محروم ہیں جو مستقبل میں بڑے صحت عامہ کے بحران کا باعث بن سکتے ہیں۔

وہ جمعرات کو فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن میں حفاظتی ٹیکہ جات مہم کے لیے 118 موبائل وینز صوبوں کے حوالے کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیرِ صحت نے کہا کہ حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں بہتری لانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جن بچوں کی ویکسینیشن مکمل ہو جاتی ہے وہ 13 مختلف بیماریوں سے محفوظ ہو جاتے ہیں، اس لیے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی مکمل ویکسینیشن یقینی بنائیں۔

مصطفیٰ کمال نے خبردار کیا کہ اگر لاکھوں بچوں کی ویکسینیشن نہ ہوئی تو مستقبل میں اسپتال مریضوں سے بھر جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں ایک کروڑ 30 لاکھ افراد صرف بیماریوں اور علاج کے اخراجات کے باعث غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔ ان کے مطابق لوگ علاج کے لیے گھر اور زندگی بھر کی جمع پونجی فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، اس لیے ویکسینیشن غربت سے بچاؤ کا بھی مؤثر ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کووڈ–19 کے دوران امریکہ، چین سمیت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی صحت کا نظام دباؤ برداشت نہ کر سکا اور مفلوج ہو گیا۔ “ہم نے وبا سے یہ سبق سیکھا ہے کہ علاج کا انتظار کرنے کے بجائے بیماری سے بچاؤ پر توجہ دینا ہی درست حکمتِ عملی ہے۔”

وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ آج فراہم کی جانے والی 118 موبائل وینز کے ذریعے ایسے بچوں تک بھی رسائی ممکن ہو سکے گی جو جغرافیائی یا معاشی وجوہات کے باعث ویکسین سے محروم رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی علاقے میں ٹیم نہ پہنچ سکے تو والدین براہِ راست وزارتِ صحت سے رابطہ کریں، تاکہ ہر بچے تک ویکسین پہنچائی جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اکیلے اس نظام کو تبدیل نہیں کر سکتی، والدین، مقامی کمیونٹیز اور شہریوں کو صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ “ہمیں اسپتالوں میں مریضوں کے آنے کا انتظار نہیں کرنا بلکہ شہریوں کو بیماری سے محفوظ رکھنا ہے۔ ہم اپنی استطاعت کے مطابق پوری دیانت داری سے عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں حفاظتی ٹیکہ جات مہم کے لیے ایک ایک گاڑی ناکافی ہے، اس لیے ان علاقوں کو ضرورت کے مطابق پانچ گاڑیاں فراہم کی جائیں گی۔