اقوامِ متحدہ، 07 نومبر ( اے پی پی): پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشترکہ قدرتی وسائل کے دانستہ سیاسی استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی سخت مذمت کی ہےجو چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے بین الریاستی تعاون کی بنیاد رہا ہے۔ پاکستان نے اس اقدام کو معاہداتی ذمہ داریوں اور بین الاقوامی قانونی اصولوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوامِ متحدہ سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ بھارت کی جانب سے ایک ایسے نظام کو منہدم کرنا جس نے پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا، لاکھوں لوگوں کو ماحولیاتی خطرات سے مزید دوچار کر دیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایک ایسے معاہدے کو غیر مؤثر بنانا جس نے عشروں تک تصادم کے دوران بھی استقامت دکھائی، خطے کے استحکام، ماحولیاتی توازن اور بین الاقوامی معاہدوں پر اعتماد کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اس کونسل کے ہر رکن اور پوری بین الاقوامی برادری کے لیے گہری تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔
سفیر عاصم نے پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے یاد دلایا کہ ثالثی عدالت کے 2025 کے فیصلے نے معاہدے کی مسلسل قانونی حیثیت اور اس کے تنازعہ حل کرنے کے طریقۂ کار کی توثیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کو جلد از جلد معاہدے کی مکمل بحالی اور طے شدہ چینلز کے ذریعے معمول کے مطابق عمل درآمد کی طرف لوٹنا چاہیے











