پاکستان کی جنوبی سوڈان سے امن معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی اپیل

13

اقوام متحدہ، 12نومبر  (اے پی پی):پاکستان نے جنوبی سوڈان میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام اور سیاسی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ جنوبی سوڈان پر زور دیا ہے کہ وہ امنِ نو معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد کرے تاکہ ملک دوبارہ خانہ جنگی کی طرف نہ لوٹ جائے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنوبی سوڈان کی صورتحال پر ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندےسفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ہم طاقت کی تقسیم کے انتظامات کے کمزور ہونے اور جھڑپوں کے بڑھنے پر تشویش رکھتے ہیں، جن سے شہریوں کو نقصان پہنچا، نقل مکانی میں اضافہ ہوا اور انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ جنوبی سوڈان میں 2026 کے عام انتخابات سے قبل سیاسی مسابقت تشدد کو ہوا دے سکتی ہے، جبکہ پڑوسی ملک سوڈان کی جنگ نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اپریل 2023 سے اب تک 12 لاکھ سے زائد افراد سوڈان سے جنوبی سوڈان میں پناہ لے چکے ہیں، جس سے مقامی وسائل پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے۔

انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ 2017 کے فائر بندی معاہدے کی پاسداری کریں، کشیدگی کم کریں اور جامع سیاسی مذاکرات میں شامل ہوں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان جنوبی سوڈان کے عوام کے ساتھ امن، استحکام اور ترقی کے لیے کھڑا ہے۔

انہوں نے جنوبی سوڈان کی حکومت کے اقوام متحدہ مشن (یواین ایم آئی ایس ایس )، افریقی یونین (اے یو ) اور علاقائی تنظیم (آئی جی اے ڈی )کے ساتھ تعاون کے اقدامات کو سراہا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جنوبی سوڈان ایک سنگین انسانی بحران سے دوچار ہے، جس کی وجوہات میں مسلح تنازعات، شدید سیلاب، ہیضے کی وبا اور سوڈان کی جنگ کے اثرات شامل ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ انسانی امدادی منصوبےکے لیے فوری فنڈ فراہم کرے۔