اسلام آباد، 13 نومبر (اے پی پی ): وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر شذرہ منصب علی خان کھرل نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ شکار ہونے والے ممالک میں شامل ہے،آئندہ سال این ڈی ایم اے نے 20فیصد اضافی بارشوں کی پیش گوئی کی ہے،وزارت موسمیاتی تبدیلیوں کا کام پالیسی سازی ہے۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران شرمیلا فاروقی کے سوال کے جواب میں ڈاکٹر شذرہ منصب علی خان کھرل نے بتایا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے گرین پاکستان،ایکو سسٹم سمیت مختلف اقدامات اٹھائے گئے ہیں،مانیٹرنگ اور جائزہ اور تصدیق کے حوالے سے چیلنجز ہیں،ہمارا موسمیاتی تبدیلیوں میں ایک فیصد حصہ بھی نہیں ہے لیکن اس سے بری طرح متاثر ہوا ہے،2022ء اور حالیہ سیلاب کا سامنا کیا،ہم صوبائی اور محکمہ جاتی سطح پر قریبی روابط کے لئے اقدامات اٹھا رہے ہیں،پنجاب سمیت باقی صوبوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف اچھے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں،پنجاب میں ائیر کوالٹی کی بہتری کے لیے وزیر اعلیٰ نے بہتر کام کیا ہے اور اس میں بہتری بھی آرہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کے شجر کاری کا گرین پاکستان پروگرام کے تحت 23ارب درخت لگائے جا چکے ہیں،عالمی شراکت داروں سے 304 ملین ڈالر جی سی ایف،14 ملین جی پی ایف فنڈ سے ملے ہیں،اس کے علاوہ پی ڈی ایس پی میں بھی فنڈز رکھے گئے ہیں، اپ سکیلنگ گرین پاکستان پروگرام،گلف تھری پروگرام جاری ہے۔2022ء کے سیلاب میں 32ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔حالیہ سیلاب سے بڑا نقصان ہوا تاہم پیشگی اطلاع کے نظام سے نقصان کم ہوا ہے۔این ڈی ایم اے کی طرف سے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے شدت اور 20فیصد اضافی بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔سیلاب والے علاقوں میں عمارتیں نہ بنائی جائیں،نیشنل ایڈاپٹیشن پروگرام میں پانی کے زیادہ سے زیادہ مصرف پر کام کررہے ہیں،ہماری وزارت کا کام پالیسی سازی ہے۔











