اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے معیشت کو بحران سے ترقی اور خارجہ تعلقات کو تنہائی سے عالمی اہمیت کی طرف منتقل کر دیا ہے، دوست ملکوں سے دوطرفہ تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ مل رہا ہے، پاکستان نے نہ صرف درست اقدامات اٹھائے بلکہ ایسی پالیسی اپنائی جس کے تحت اسے سفارتی میدان میں متعدد کامیابیاں حاصل ہوئیں، یہ کامیابیاں سول و فوجی قیادت بشمول وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان موجود مثالی ہم آہنگی کا نتیجہ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں صنوبر انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام ”بدلتی دنیا میں پاکستان کا کردار“ کے عنوان سے منعقدہ مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں دوست ممالک ناراض تھے لیکن موجودہ دور حکومت میں پاکستان نے نہایت مختصر عرصے میں خارجہ پالیسی کے تناظر میں نمایاں اہمیت دوبارہ حاصل کرلی۔ گزشتہ دو برسوں کے واقعات خصوصاً مئی کی جنگ کے بعد کی صورتحال نے ہمارے قومی تشخص کو ایک نئی سمت دی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پہلگام واقعہ کے بعد وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس سانحہ کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کی پیشکش کی، پاکستان پر اکثر ایسے دہشت گردانہ حملوں کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کے باوجود پاکستان کے خلاف باقاعدہ پروپیگنڈا کیا گیا اور ہمیں ہی دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دی ہیں، ہم نے 90 ہزار جانوں کی قربانی دی ہے، دنیا کے کسی ملک نے دہشت گردی کے خلاف اتنی بڑی قربانی نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کیا، ہم دہشت گردوں اور باقی دنیا کے درمیان ایک ڈھال کا کردار ادا کر رہے ہیں اور جب کوئی پاکستانی اپنی جان قربان کرتا ہے تو یہ صرف مادر وطن کے لئے نہیں بلکہ دنیا کو محفوظ بنانے کے لئے بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی قربانیاں رائیگاں جانا ممکن نہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا ہماری کہانی سنے اور اسے درست انداز میں سمجھے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ سے قبل تحقیقات کی پیشکش کر کے ہم نے یہ پیغام دیا کہ ہمارے ہاتھ صاف ہیں اور ہمارا موقف دنیا نے تسلیم کیا، اس موڑ پر ہمارے دوستوں اور اتحادیوں سے تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تحقیقات کی پیشکش کر کے پاکستان نے ایک موثر سفارتی قدم اٹھایا جسے دنیا بھر میں سراہا گیا، اس کے بعد وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کی سطح پر وسیع سفارتی روابط ہوئے جنہوں نے پاکستان کے بیانیہ کو دنیا کے سامنے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مسلسل سفارتی رابطوں نے پاکستان کو دنیا کے سامنے اپنا موقف موثر طریقے سے پیش کرنے میں مدد دی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بدل رہی تھی اور پاکستان بھی بدلا، ہم نے ایک فعال سفارتی تبدیلی دیکھی کیونکہ پاکستان نے سفارت کاری کو انتہائی سنجیدگی سے لیا۔ ہم نے بیانیہ کو موثر انداز میں پیش کرنے پر توجہ دی، پاکستان کے موقف کو عالمی میڈیا پر پہنچانا میری ذمہ داری تھی اور ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ یہ پیغام دنیا تک پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سچ کی طاقت تھی، اسی بنیاد پر جب پاکستان نے اپنی کہانی درست انداز میں پیش کی تو دنیا نے اسے سنا اور اس کا اثر ہوا۔ موثر سفارت کاری کے ساتھ درست معلومات پر مبنی مہم کے ذریعے معلومات اور پروپیگنڈے کا کامیابی سے مقابلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر محاذ پر موجود تھا اور درست معلومات فراہم کرنے پر ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ قائم مثالی ہم آہنگی قابل تعریف تھی جس کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ بیانیہ کے محاذ پر پاکستان کامیاب رہا اور سفارتی محاذ پر بھی ہمیں کامیابی حاصل ہوئی جب حقیقت میں معاملہ کارروائی تک پہنچا تو اللہ کے فضل سے ہم نے سات بھارتی طیارے مار گرائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان کو جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو اس کا بھرپور جواب دیا جس نے ہماری عسکری طاقت کو واضح طور پر ثابت کیا، اس طرح بیانیہ کی جنگ اور سفارتی محاذ دونوں میں کامیابی حاصل ہوئی اور جب اصل جنگ کی باری آئی تو پاکستان نے شاندار کارکردگی دکھائی اور صرف چار گھنٹوں کے اندر بھارت کو جنگ بندی کی درخواست کرنا پڑی جس سے یہ واضح ہوا کہ پاکستان واقعی بدل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک قوم کے طور پر جو اتحاد ہم نے دکھایا اسے تسلیم کرنا ہوگا، پاکستانی عوام کی حوصلہ مندی اور یکجہتی نے اختلافات کو پیچھے ڈال دیا اور میں ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ آج کوئی سیاسی پوائنٹ سکور کرنے کا موقع نہیں ہے۔ ہم سب ایک پیج پر تھے اور یکجا ہو کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے پرعزم تھے اور الحمد اللہ یہی ہو کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر نہایت سنجیدہ صورتحال تھی، ہمارے نوجوان ایسے میمز بنا رہے تھے جنہوں نے دشمن کو لاجواب کر دیا۔ جنگ سنجیدگی کا معاملہ ہوتا ہے لیکن ہماری نوجوان نسل نے اپنے انداز میں دشمن کے خلاف ایک موثر محاذ سنبھالا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں نے خود ذمہ داری لیتے ہوئے اس ڈیجیٹل محاذ پر پاکستان کے لئے جنگ لڑی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دنیا میں لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک ڈیجیٹل نیٹیوز اور دوسری ڈیجیٹل امیگرینٹس۔ بعض اوقات ڈیجیٹل امیگرینٹس کو ڈیجیٹل میڈیا کی حقیقتوں کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے لیکن ڈیجیٹل دور میں پیدا ہونے والے نیٹیوز اسے ہم میں سے اکثر سے بہتر سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیجیٹل نیٹیوز نے اپنی الگ حکمت عملی اپنائی اور اسی کے ذریعے اس محاذ پر کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ مکمل ہم آہنگی اور یکجہتی نے پاکستان کو کامیابی دلائی اور آج پاکستان عالمی سطح پر اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ غزہ کی صورتحال اور جنگ بندی کے معاملات میں پاکستان ان عرب و اسلامی ممالک میں شامل ہے جنہوں نے امن قائم کرنے میں ثالثی اور مذاکرات میں حصہ لے کر بالآخر جنگ بندی ممکن بنائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے کہ دنیا کے ممالک نے اسے سنجیدگی سے لیا اور تسلیم کیا کہ ہمارے مشورے اور موقف نہایت اہم اور متعلقہ ہیں۔ اس سال پاکستان میں کئی اعلیٰ سطحی دورے ہوئے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال میں پاکستان کی سفارتی مصروفیات عروج پر رہیں، اس دوران ہم نے ایس سی او سمٹ کی میزبانی کی اور 14 سال بعد 12 وزرائے اعظم پاکستان کے دورے پر آئے۔ اسلام آباد آنے والے حکومتی سربراہان نے اسٹریٹجک تعلقات، علاقائی تعاون، انسداد دہشت گردی اور علاقائی روابط پر بات کی اور یہ تمام امور مسلسل زیر غور ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی تعلقات کی روشنی میں پاکستان 2027ء میں ایس سی او ہیڈ آف اسٹیٹ سمٹ کی میزبانی کرے گا جو بلا شبہ ایک بڑا ایونٹ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ پاکستان کیلئے اہم تاریخی قدم ثابت ہوا، عوام نے اس پر فخر کیا جبکہ ریاض میں 25 کلو میٹر فاصلے تک پاکستانی پرچم بلند اور مسلسل لہراتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتے دورے میں اقتصادی تعاون کے فریم ورک کے آغاز نے پاکستان کی معیشت کی بحالی کے حوالے سے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم کئے۔ اقتصادی بہتری کے حوالے سے یہ ایک اہم کامیابی ہے کیونکہ پاکستان کی ریٹنگز اور میکرو اکنامک اشاریئے بہتر ہوئے ہیں اور عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی اقتصادی کارکردگی کو سراہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے معیشت کو بحران سے ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے اور خارجہ تعلقات کو تنہائی سے عالمی اہمیت تک پہنچایا، یہ دو نعرے حکومت کی کارکردگی کو بخوبی بیان کرتے ہیں کہ الحمد اللہ ہم نے معیشت اور خارجہ پالیسی دونوں میں نمایاں پیشرفت کی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے معاملے میں بھی پاکستان کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لئے استعمال ہوتی رہی ہے۔ ہر بڑے واقعہ کی تحقیقات میں کسی نہ کسی مقام پر افغان شہری کا تعلق ضرور سامنے آتا ہے اور اس صورتحال سے پاکستان نمٹ رہا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کا بہت واضح اور مضبوط موقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کی معیشت، غیر ملکی سرمایہ کاری، سٹریٹجک تعلقات بشمول علاقائی اور بین الاقوامی تجارت اور کاروبار انتہائی پرامید ہیں اور اب تک نتائج بھی شاندار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ماہ ہمارا ملائیشیا کا نمایاں دورہ بھی ہوا۔ ملائیشیا کے ساتھ پاکستان کے تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر موجودہ بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستان نے درست طریقے سے اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ پر حملے کے بعد پاکستانی وفد دوحہ پہنچنے والے پہلے وفود میں شامل تھا جس نے قطر کی قیادت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف درست اقدامات اٹھائے بلکہ ایسی پالیسی بھی اپنائی جس کے تحت اسے سفارتی میدان میں متعدد کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ یہ کامیابیاں سول و فوجی قیادت بشمول وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان موجود مثالی ہم آہنگی کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں استحکام نے پاکستان کو بیرون ملک موثر انداز میں اپنا موقف پیش کرنے کی قوت دی۔ دیگر ممالک بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار پاکستان، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی تعریف کی اور بار بار سات طیاروں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ غور طلب ہے کہ پاکستان کا امریکہ کا دورہ انتہائی کامیاب رہا، تعلقات میں نمایاں بہتری آئی، اسی طرح حالیہ دورہ چین بھی اہم رہا۔ پاکستان کے ہر ملک کے ساتھ تعلقات کی اپنی منفرد نوعیت ہے اس لئے ایک تعلق کسی دوسرے تعلق کی قیمت پر قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی کی کامیابی کا یہی راز ہے، اسی روشنی میں ہم مستقبل کے لئے ایک مضبوط، موثر اور عملی خارجہ پالیسی اپنانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو نہ صرف پاکستان کو عالمی سطح پر عزت دے بلکہ ہماری معیشت کو بھی نئی بلندیوں تک لے جائے۔











